
میرا تعلق پنجاب کے ایک تعلیم یافتہ، روشن خیال اور خوشحال گھرانے سے ہے۔ والدریلوے کے محکمے میں ڈاکٹر تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد ملازمت کے سلسلے میں کوئٹہ میں رہائش اختیار کی۔ میں وہیں کی پیدائش ہوں۔ اسی پر فضا وادی میں بچپن اور لڑکپن گزرا۔اب کئی برس سے لاہور میں مقیم ہوں اور ایک نجی کاروباری ادارے سے منسلک ہوں۔
مطالعہ کاشوق والد سے وراثت میں ملا۔ گھریلو ماحول ایسا تھا کہ نوعمری میں ہی شعروادب سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ سیروسیاحت میرا شوق ہے۔ جس کی تکمیل میں آدھی سے زیادہ دنیا گھوم چکی ہوں۔
"پاؤں کا تل” میری پہلی کتاب اور یورپ کا سفرنامہ ہے۔ کتابی صورت میں شائع ہونے سے پہلے یہ ”نوائے وقت” کے فیملی میگزین میں قسط وار چھپ چکا ہے۔ میری دوسری کتاب ”بن اورمن” افریقہ کے سفر کی داستان ہے، اور تیسری کتاب ”ہمسفر” کے عنوان سے ترکی اور ایران کی کہانی ہے۔ ہرسفر نامے میں مسافر کے دل کی باتیں بھی شامل ہیں۔
ہمارے ایک بے حد عزیز دوست عاقل عباس رضوی کو میں نے اپنی پہلی کتاب بھیجی۔ وہ خود بھی شعروادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ یہ اُن کا تبصرہ ہے :
بہت خوبصورت کتاب ہے۔ ہر لحاظ سے۔ چھوٹے چھوٹے جملے، سادہ الفاظ اور اشعار کا برمحل استعمال۔ اس میں افسانہ بھی ہے حقیقت بھی، جغرافیہ بھی ہے تاریخ بھی۔ کسی شہرکا بیان شروع ہوا تویوں لگا جیسے خود وہاں موجود ہیں۔ کھانے کاتذکرہ ہوا تو بھوک لگنے لگی۔ پڑھنا شروع کیا تو رُکنے کاجی ہی نہ چاہا۔ دو نشستوں میں کتاب ختم۔ اگلی کتاب کا انتظار رہے گا۔
اللّہ کرے زورِ قلم اور زیادہ !