
ہماری نسل کے تمام لوگ تو یہ اعلان سُن سُن کر ہی بڑے ہوئے ہیں۔ ریڈیو سیلون اور اُس کی بناکا گیت مالا ہمارے بچپن اور نوجوانی کے دور کا ایک اہم حصہ تھی ۔ اس ملک کو یہ نام انگریزوں نے دیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ آزادی کے بعد انہوں نے اپنا نام سری لنکا رکھ لیا، یعنی "سنہرا جزیرہ”۔
رامائن میں لکھا ہے کہ برہمنوں کے دیے ہوئے شراپ یعنی بددعا کے نتیجے میں راون اگلے جنم میں ایک راکھشس یعنی شیطانی روپ میں پیدا ہوا، جبکہ پچھلے جنم میں شہزادہ تھا۔ اس کے دس سر اور بیس ہاتھ تھے۔ وہ بے حد بہادر اور مانا ہوا جنگجو تھا۔ سمندر کے وسط میں ایک پہاڑ پر برہما نے ایک مضبوط قلعہ بنایا، جو اندر کے شہر امراؤ سے بھی زیادہ خوبصورت تھا اور "لنکا” کہلاتا تھا۔ اس کے چاروں طرف سمندری خندق تھی۔ اس کی دیواریں سونے کی تھیں جن میں ہیرے جواہرات جڑے تھے۔ راون نے لنکا کو اپنی راجدھانی بنایا اور اطمینان سے وہاں رہنے لگا۔
اس جزیرے کی تاریخ بے حد پرانی ہے اور اسی طرح کی بے شمار کہانیاں یہاں کے شہروں سے وابستہ ہیں۔ انورادھا پورہ اور سیگریا کے کھنڈر یہاں کی تاریخی عظمت کے گواہ ہیں۔
ہمیں بھی یہاں کی سیر کا شوق چرایا۔ پرانے شہر ہم اپنے پچھلے سفر میں دیکھ چکے تھے۔ یہی سوچا کہ زیادہ توجہ یہاں کے قدرتی حسن پر رکھی جائے۔
فلائٹ تو کولمبو جاتی ہے اس لیے دو راتیں وہاں گزارنے کا ارادہ کیا۔ یہاں رہنے کے لیے ہم نے تاریخی "گال فیس "(Galle Face) ہوٹل کا انتخاب کیا۔ یہ ہوٹل انگریز دور کی حسین یادگار ہے، ساحلِ سمندر پر واقع ہے اور اپنی ذات میں ایک تاریخی مقام ہے۔ ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کی پہلی گاڑی بھی یہاں نمائش کے لیے رکھی گئی ہے، جو انہوں نے اپنی نوجوانی کے دور میں برطانوی نیوی کے ایک افسر کی حیثیت سے یہاں خریدی تھی۔ اسی طرح یہاں قیام کرنے والی مشہور ہستیوں کی تصویروں کی بھی ایک دلچسپ نمائش ہے۔
کولمبو کا موسم گرم اور مرطوب ہوتا ہے۔ ہمارا رخ سہانے موسم والے علاقوں کی طرف تھا۔ میں نے پاکستان سے ہی پورے سفر کے لیے گاڑی اور انگریزی دان ڈرائیور کی بکنگ کر لی تھی ۔ اسی نے ہمیں ایئر پورٹ سے لیا۔ ایسے ڈرائیور ایک طرح کے گائیڈ بھی ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے سفر میں بہت سہولت ہو جاتی ہے۔
کولمبو کے بعد ہماری دوسری منزل کینڈی (Kandy) تھی ۔ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے تو اس نام سے ضرور واقف ہوں گے، یہاں کرکٹ کے کئی یادگار میچ کھیلے گئے۔ کینڈی سے ایلا (Ella) کے ریل کے سفر کی سوشل میڈیا پر بے حد دھوم ہے، تو ہم نے سوچا یہ تجربہ بھی کر لیا جائے ۔
اسے دنیا کا حسین ترین ریل کا سفر بتایا جاتا ہے۔ پورا سفر تو بہت طویل تھا، پتہ چلا کہ درمیان کے ایک اسٹیشن سے بھی گاڑی پکڑ سکتے ہیں۔ اور یہ کہ اصلی نظاے تو اس کے بعد ہی ہیں۔
طے یہ ہوا کہ ہمارا ڈرائیور ہمیں اس اسٹیشن پر چھوڑے گا اور ایلا کے اسٹیشن پر ہمیں لینے کے لیے موجود ہو گا۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ سڑک اسٹیشن سے خاصی دور ہے۔ ٹیڑھی میڑھی اونچی نیچی بارش کے بعد پھسلن والی سیڑھیاں اتر کر اور راستے میں سوئے ہوئے کتوں سے بچتے بچاتے پلیٹ فارم پر پہنچے جو غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ایک جرمن لڑکی سے بات چیت شروع ہو گئی، جو اکیلی بغیر کسی بکنگ کے تھرڈ کلاس کا ٹکٹ پکڑے کھڑی تھی۔ وہ سری لنکا کی پہاڑیاں چڑھنے کے شوق میں یہاں آئی تھی۔ جوانی کی ہمت، جوش و خروش اور ایک کمر پر لٹکا بیگ، بس یہی اس کا زادِ راہ تھا۔
بہت سے مغربی ملکوں کے نوجوان جوڑے یہاں کی پہاڑیاں چڑھنے کے لیے آتے ہیں۔ ایک پہاڑی حضرت آدم کے نام سے منسوب ہے، کہتے ہیں جب آدم کو باغ بہشت سے دیس نکالا ملا تو انہوں نے دنیا میں پہلا قدم یہیں رکھا تھا۔ وہاں ان کے قدم کا نشان بھی ہے۔
ریل گاڑی کا سفر کچھ مایوس کن ہی تھا۔ سچ ہے آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، جسے چاہے شہرت دے۔ کافی کھٹارہ ٹرین اور نظارے بھی زیادہ تر وہی تھے جو باقی سری لنکا میں ہیں اور کچھ دھند میں لپٹے ہوئے۔ ہر وقت بارش ہوتی ہے تو بے حد سرسبز جزیرہ ہے۔ اتنی ہریالی ہے کہ کہیں مٹی کا کوئی کونہ نظر نہیں آتا۔ یہ راستہ چائے کے باغات کی وجہ سے زیادہ حسین لگتا ہے۔ گورے نوجوان جوڑوں کو یہ انوکھا پن لگتا ہے کہ ریل کے ڈبوں کے شیشے کھلے ہیں کھڑکیوں سے باہر سر نکالتے ہیں اور دروازوں پر لٹک کر Kissing کرتے ہیں۔
ایک نو محرابوں والے پل کی سب سے زیادہ دھوم تھی، راستہ چونکہ پہاڑی ہے اس لیے گاڑی گھومتی ہوئی جاتی ہے۔ جب اس پل پر پہنچتے ہیں تو باہر لٹک کر اپنی ہی گاڑی کی تصویریں لیتے ہیں ۔ اس پل کے انتظار میں تین گھنٹے گزر گئے ۔
پھر پتہ چلا کہ وہ تو Ella کے بعد آتا ہے۔ لاحول ولاقوۃ ۔ یونہی اتنا مہنگا ٹکٹ خریدا۔ اگلے دن سوچا کہ اس پل کا دیدار کر ہی لیں، بارش ذرا تھمی تو وہاں کا رخ کیا ۔ ایک خاص جگہ کے بعد پتہ چلا کہ رکشہ لینا پڑے گا جسے یہاں "ٹک ٹک” کہتے ہیں ۔ مٹی کی پگڈنڈی بارش کی وجہ سے کیچڑ میں لت پت تھی، اسی سے گزر کر اس پل تک پہنچے۔ وہاں سیاحوں کا ہجوم تھا، ایک ڈھابہ تھا۔ گاڑی کے انتظار میں وہاں بیٹھ کر ناریل پانی پیا۔ گاڑی کی خبر ملتے ہی ہنگامہ سا مچ گیا۔
ہم بھی کیچڑ سے بچتے ریل کی پٹری پھلانگتے وہاں پہنچ گئے جہاں سے صحیح تصویر لی جاسکتی ہے۔ گاڑی آئی تو اس کے مال گاڑی کی طرح کھلے ڈبوں میں نوجوان گورے سیاحوں کا ہجوم تھا جو موسیقی کی دھن پر ناچ رہے تھے۔ بس اپنا اپنا شوق ہے شاید اپنے ہاں کی صاف ستھری بند ریل گاڑیوں کے بعد یہ مال گاڑی انہیں ایک نرالی بات لگتی ہے۔
ایلا میں دوسری دلچسپ جگہ راون کی آبشار ہے۔ بہت اونچائی سے گرتی ہے۔ اور کافی خوبصورت ہے۔ یہیں ذرا سا اوپر چڑھیں تو وہ غار ہے جس میں کہتے ہیں کہ راون نے لا کر سیتا کو قید کیا تھا۔ یہ داستانیں کتنی جھوٹ اور کتنی سچ ہیں، واللہ اعلم ۔
ایلا کے بعد ہماری اگلی منزل نویرا ایلیا (Nuwara Eliya ) تھی ۔ یہ سری لنکا کا سب سے خوبصورت اور ٹھنڈا چھوٹا سا پہاڑی شہر ہے۔ اسے "لٹل انگلینڈ” Little England بھی کہتے ہیں کیونکہ انگریزوں نے اسے اپنا موسم گرما کا سرکاری مقام بنا رکھا تھا۔ یہاں زیادہ تر عمارتیں برطانوی طرز کی ہیں ۔ ہمارا قیام پانچ راتوں کے لیے تھا۔ ہم نے شہر سے ذرا سا باہر ایک بے حد خوبصورت ریزورٹ ہوٹل بک کیا تھا۔ چائے کے باغوں کے درمیان یہ ہوٹل ایک وسیع رقبے پر بنایا گیا ہے۔ سٹرابری Strawberry کے باغ اور پھولوں سے لدی کیاریاں اس جگہ کو ایک خاص حسن بخشتی ہیں۔
مگر صاحب وہ کہتے ہیں نا کہ "تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خنداں” یوں تو کینڈی سے ہی کبھی تیز کبھی ہلکی بارش ہمارے ساتھ ساتھ تھی، مگر نویرا ایلیا پہنچنے کے بعد بارش اتنی تیز اور لگا تار ہونے لگی کہ ہرے بھرے باغوں میں پیدل گھومنے پھرنے کے سب خواب ادھورے رہ گئے ۔ اگلے دن سوچا تھا کہ ذرا شہر کی سیر کریں گے۔ صبح ناشتے کے بعد ڈرائیور کا فون آگیا کہ تمام راستے بند ہیں اور شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں کیونکہ سری لنکا سائیکلون (Cyclone) یعنی تیز چکر دار ہوا اور بارش کے طوفان کی زد میں ہے۔ ابرارالحق کے مشہور گیت
کنے کنے جانا اے بلو دے گھر کے بول یاد آ گئے
جدوں کڈیا جلوس غریباں تے شہر وچ چتالی لگ گئی ۔
دفع 144 یعنی کرفیو ۔
تو اب جو کچھ تھا اسی کا لطف اٹھانا تھا۔ ہوٹل بہت اچھا تھا اور کمرے سے نظارہ بیحد خوبصورت، سامنے سرسبز پہاڑیاں، نیچے چھوٹا سا گاؤں اور اس کے درمیان بہتی ندی۔ اندر ہر سہولت مہیا تھی ۔ کمرے کی ایک پوری دیوار شیشے کی تھی جس میں دروازہ بھی تھا۔ باہر بالکونی۔ اس شیشے کی دیوار کا پٹ کھول کر وہاں بیٹھ کر اس لگا تار بارش کو دیکھنے کا بھی اپنا ہی حسن اور مزا تھا۔ فون پر غزلیں اور پرانے گیت سنتے رہے، دیکھتے ہی دیکھتے سامنے پہاڑی پر بارش سے آبشار بن گئی۔ گاؤں میں بل کھاتی چھوٹی سی ندی ایک دریا کی صورت اختیار کر گئی۔
کمرے میں چائے کافی کا سب سامان موجود تھا۔ اس کے علاوہ ہوٹل کے ڈائننگ ہال کا راستہ اندر سے ہی تھا۔ ایک ریسٹورنٹ ذرا دور تھا۔ وہاں جانے کے لئے چوتھی منزل پر ایک خوبصورت شیشے کا پل تھا۔ دونوں جانب پھولوں کے رنگ برنگے حسین گملے تھے۔ اسکے باہر ایک ٹک ٹک کھڑی رہتی تھی۔ جسے ہوٹل والے بگھی کہتے تھے۔ بارش کی وجہ سے اس کے دونوں طرف پلاسٹک کے پردے تھے۔ ڈرائیور وہاں موجود رہتا تھا۔ بیٹھتے وقت ایک آدمی چھتری لے کر کھڑا ہوتا تھا۔ ایک تولیے سے سیٹ پونچھتا تھا۔ ڈرائیور دروازے کا پردہ ہٹاتا تھا اور پھولوں سے لدے اونچے نیچے بل کھاتے راستے سے گزار کر ریسٹورنٹ تک پہنچاتا تھا ۔ اب یہ مزے تو انہی ملکوں میں مل سکتے ہیں۔ اتنی خاطر داری ترقی یافتہ ملکوں میں کہاں ۔
اس موسم میں گرم گرم سوپ اور Fish and Chips کا لطف کیا ہی بتاؤں۔ ہوٹل کا ڈائننگ ہال بھی بہت اچھا تھا اور ایک قدم اوپر چڑھ کر اسکا ایک حصہ شیشے کی دیواروں کا تھا۔ وہاں بیٹھ کر یہ احساس ہوتا تھا کہ آپ باہر کے منظر کا ایک حصہ ہی ہیں ۔ ناشتہ تو بے حد لمبا چوڑا ہوتا ہی تھا۔ یہاں کا کھانا کچھ جنوبی ہندوستان کے کھانوں سے بھی ملتا جلتا ہے مقامی لوگ تو سفید چاول اور سالن ہی کھاتے ہیں جسے یہ Rice and Curry کہتے ہیں ۔ وہ چاہے مرغی کا ہو مچھلی کا ہو یا صرف سبزی کا۔
مگر مرچ انتی تیز کھاتے ہیں کہ میری تو ہمت نہیں ہوئی ۔ اسکے علاوہ کئی طرح کی چٹنیاں۔ ناریل کے ساتھ سبز مرچ اور سرخ مرچ کٹی ہوئی ۔ تازہ ڈو سے بن رہے ہوتے تھے۔ اسکے علاوہ یہاں کی خاص چیز Hopper مجھے بہت پسند آئی۔
ایک گول برتن میں چاول کے آٹے کی بہت پتلی تہہ کے اندر انڈہ توڑ کر ڈال دیتے ہیں ۔ پھر وہ پورا پیالے کی طرح باہر نکل آتا ہے۔ اُسے چٹنی وغیرہ سے ملا کر کھایا جاتا ہے۔
یہاں کے کھانوں میں ناریل کا بیحد استعمال ہے۔ اسکے علاوہ دار چینی، الائچی اور دیگر مصالحہ جات بھی استعمال کرتے ہیں۔
جنوبی ہندوستان، پرتگالی، ولندیزی یعنی Dutch اور انگریز حملہ آوروں اور تاجروں کی وجہ سے مقامی کھانوں میں ان سب ملکوں کے دستر خوان کا رنگ بھی گھل مل گیا ہے۔
یہاں کی ایک خاص ڈش (Kottu Roti) ہے روٹی کو توے پر ڈال کر اسکے نوڈل کی طرح چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیتے ہیں اور اس میں مختلف مصالحے، سبزی، پنیر اور چکن وغیرہ ملا دیتے ہیں۔ کافی مزیدار کھانا بن جاتا ہے۔
ایک اور ڈش مجھے بیحد پسند آئی مگر اسکا نام بڑا مشکل سا تھا۔ کیلے کے پتے میں مچھلی چاول کچھ سبزی اور مصالحے وغیرہ لپیٹ کر اسے بھاپ میں پکاتے ہیں۔ گرم گرم بہت مزیدار لگتی ہے۔ پھر یہاں کی چائے تو خاص ہے ہی مگر دودھ ڈالنے سے اسکا ذائقہ بگڑ جاتا ہے۔ دودھ کے بغیر اسکا سنہرا رنگ اور مہک بہت بھلی لگتی ہے۔
اگلے دن حالات کچھ بہتر تھے۔ یہاں کے گرینڈ ہوٹل کی High Tea کی بہت شہرت سن رکھی تھی ۔ یہ بھی انگریز کے زمانے کا ہوٹل ہے اور یہاں کے خاص قابل دید مقامات میں گنا جاتا ہے۔ شہر کے بیحد خوبصورت اور شاندار علاقے میں واقع ہے۔ ہمارے ہوٹل سے زیادہ دور نہیں تھا۔ ہمارا ڈرائیور بھی ہمت والا تھا۔ وہاں لے گیا۔ کبھی ہلکی کبھی تیز بارش تو ہوتی رہی ۔
High Tea باہر برآمدے میں لگتی ہے۔ انگریز کے وقتوں کی طرح ایک تین منزلہ Platter آتا ہے۔ سینڈوچ، سکون Scones اور پیسٹریاں اسکے ساتھ ایک بڑا سا پمفلٹ بھی تھا جس پر اس ہوٹل اور High Tea کی سنہری تاریخ کی داستان پرانی تصویروں کے ساتھ لکھی گئی تھی کہ آپ جب یہاں بیٹھیں گے تو محسوس ہو گا آپ اٹھارھوریں صدی کے لارڈ اور بیگمات ہیں۔ سنہری چائے کی مہک آپ کے دل و دماغ کو سرور بخشے گی۔ بے آواز باوردی ویٹر چائے اور اسکے ساتھ مزیدار لوازمات پیش کریں گے۔
مگر ایسا تھا نہیں۔ بس یہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ جسے چاہے مشہور اور مقبول کر دے۔ لوازمات بھی بس ٹھیک تھے۔ کچھ ایسے دنیا سے نرالے نہیں تھے اور ساتھ ہی کاونٹر پر کھڑا اسٹاف اونچی آواز میں خوشی گپیوں میں مصروف تھا۔ اچھا خاصا شور مچا رکھا تھا۔ چائے بھی کافی ہدایات کے بعد گرم ملی۔ البتہ برآمدے کے باہر خوبصورت باغ میں میگنولیا کے درختوں اور بارش کی رم جھم نے ایک افسانوی ماحول ضرور پیدا کر دیا تھا۔
ہمارے ڈرائیور نے خبردار کیا کہ جلدی نکلیں ورنہ بارش کی وجہ سے راستے بند ہو جائیں گے۔ شکر ہے واپس اپنے ٹھکانے پہنچ گئے۔ دو دن تو خیر سے گزر گئے اس کے بعد بجلی بند ہو گئی، فون کی لائن کٹ گئی اور انٹرنیٹ بھی بند ہو گیا۔ بجلی کے لیے تو خیر ہوٹل والوں نے جنریٹر چلا لئے مگر اسکے علاوہ باہر کی دنیا سے رابطہ ختم ہو گیا۔ ہم تو پھر بھی کچھ نقد رقم رکھ کر گھر سے چلتے ہیں مگر اکثر سیاح خاص کر گورے تو کارڈ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں ۔ اب جب کارڈ نہیں چل رہا کیونکہ انٹر نیٹ نہیں تو وہ چاہیں بھی تو ہوٹل سے نکل نہیں سکتے ۔ انکا حساب کیسے چکائیں۔
ہوٹل کے کئی مہمان صبح نکلتے اور چند گھنٹوں بعد راستے بند دیکھ کر واپس آجاتے ۔
پہلے تو لوگ باہر جاتے تو ایک آدھ دفعہ اپنے گھر والوں سے رابطہ کر لیتے تھے۔ اب موبائل فون اور انٹرنیٹ نے عادت خراب کر ڈالی۔ سب پریشان تھے کہ گھر والوں سے رابطہ نہیں ہو سکتا۔ ہوٹل میں تقریباً پچاس ساٹھ مہمان تھے، دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے۔ رات کو کھانے کے کمرے میں ایک چھوٹی سی اقوام متحدہ بن جاتی۔ سب ایک ہی مشکل میں گھرے ہوئے تھے۔ اگلے روز صبح صبح ہمارا ڈرائیور بھاگا آیا کہ شہر میں ایک کافی ہاؤس کا انٹرنیٹ چل رہا ہے۔ جلد چلیں تا کہ آپ اپنے گھر والوں سے رابطہ کرسکیں۔
جب اس کافی ہاؤس کے باہر پہنچے تو ایک نا قابل بیان اور یقین نظارہ تھا۔ کافی ہاؤس کے مالک کو خدا جزائے خیر دے کوئی نیک انسان تھا۔ اسکی جگہ تو بند تھی مگر اس نے اپنا انٹرنیٹ کھلا رکھا تھا اور Password بھی بتا دیا تھا۔ اب مختلف قومیتوں اور رنگ ونسل کے دو تین سو افراد اپنے فون پکڑ کر اپنے ملک سے رابطے کی کوشش میں تھے ۔ سب پریشان، بال بکھرے ہوئے، اکثر نائٹ سوٹ اور چپلوں میں ہی بھاگے آئے تھے۔ کسی کا رابطہ ہورہا تھا کسی کا نہیں۔ خدا خدا کر کے کوئی آدھ گھنٹے بعد ہمارا بھی رابطہ ہو گیا۔ جلدی جلدی میسیج Message کئے۔ گھر والے ظاہر ہے بیحد پریشان تھے۔ کیونکہ ٹی وی کی خبروں سے تو یہ لگتا تھا کہ سارا سری لنکا ڈوب چکا ہے۔
اسکے اگلے دن سب ڈرائیور سر جوڑ کر بیٹھے۔ بڑی بڑی سڑکیں تو سب بند تھیں ۔ درخت بجلی کے گھمبے اور مٹی کے تو دے جگہ جگہ گرے ہوئے تھے۔ Yala نیشنل پارک کے اندر سے ایک سڑک جاتی ہے۔ جو راستہ تو بہت لمبا ہے مگر آخر کار ہائی وے Highway کو مل جاتا ہے۔
وہاں سے گزرنے کے لیے خاص اجازت لی گئی۔ یہ طے ہوا کہ سب ایک قافلے کی صورت روانہ ہوں تا کہ راستے میں آنے والی رکاوٹوں کے ہٹانے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔
صبح 9 بجے ہوٹل کے باہر سب اکھٹے ہوئے پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، اسرائیلی، فرانسیسی، جرمن، برطانوی اور سری لنکا کے اپنے سیاح، سب ایک خاندان کی طرح کھڑے تھے۔ سب گلے ملے تصویریں لی گئیں۔ سانجھی مشکل نے سب کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔
کاش دنیا بھر کے انسان اسی طرح محبت اور بھائی چارے سے ایک ہو کر رہیں تو یہ دنیا جنت بن جائے
سترہ گاڑیوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا، چھوٹی سی سڑک تھی مگر راستہ بے حد خوبصورت تھا۔ اگرچہ عام راستے سے بہت لمبا تھا۔ مگر اس وقت تو سب کو یہ دھن تھی کہ کسی طرح یہاں سے نکل جائیں۔ بہت سے سیاحوں کی تو فلائٹ بھی miss ہو گئی تھی۔ کچھ بھارتی سیاحوں نے کسی شادی پر مالدیپ جانا تھا۔ راستے میں دو دن کیلئے سری لنکا ٹھہر گئے اور شادی گزر گئی یہ یہیں رہ گئے ۔
آدھا راستہ گزرنے کے بعد ایک کافی شاپ نظر آئی وہاں سب اترے پھر خوب گپ شپ ہوئی ۔ تصویریں لی گئیں تھوڑا سا سکون آیا۔
چند گھنٹوں بعد High way آگئی تو بس سب اپنے اپنے راستوں پر ہو لئے
خالد شریف کا شعر یاد آ گیا
نہ شکوہ کوئی ماضی کا نہ مستقبل کی امیدیں
سفر کی دوستی کتنی بھلی معلوم ہوتی ہے۔
رات بہت ہو چکی تھی تو اپنے ڈرائیور کے مشورے پر ایک ساحلی شہر میں رات بھر کے لئے ٹھہر گئے ۔ اگلے دن کولمبو پہنچے یہاں خدا کا شکر ہے حالات ٹھیک ٹھاک تھے۔ ایک رات گزارنے کے بعد واپسی کا رخ کیا۔
بس یہ محاورہ یاد آیا
جان بچی تو لاکھوں پائے
خیر سے بدھو گھر کو آئے
یہ تو خیر ایک بار ایسا اتفاق ہو گیا ۔ مگر سری لنکا بہت دلچسپ اور خوبصورت ملک ہے دیکھنے کے لائق۔ آپکو موقع ملے تو ضرور جائیے گا۔ یہ سنہرا جزیرہ اور یہاں کے سادہ دل لوگ آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔
جواب دیں