جیون میں ایک بار۔۔۔۔

ہمارے بچپن میں ریڈیو پر لتا کا ایک گانا بجا کرتا تھا۔ "جیون میں ایک بار آنا سنگا پور۔” پتہ نہیں کس طرح برسوں بعد بھی اس کے بول ذہن میں رہے۔ جب بالی گئے تو سوچا کہ ساتھ ہی سنگا پور جا کر بھی دیکھ لیا جائے کہ اس میں ایسی کیا خصوصیت ہے۔

وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ واقعی کئی لحاظ سے یہ ایک انوکھا ملک ہے۔ اور لتا جی کے گانے کے وقت چونکہ دُبئی کا کوئی خاص وجود نہیں تھا تو یہ اپنی طرز کا واحد ملک ہی ہوگا۔

دُبئی کا ذکر میں نے اس لئے کیا کہ ان دونوں جگہوں میں خاصی مماثلت ہے۔ اگرچہ ساتھ ہی ساتھ انکی اپنی ایک الگ مخصوص پہچان بھی ہے۔ دونوں نے کوئی خاص قدرتی وسائل و ذخائر نہ ہونے کے باوجود تیزی سے ترقی کی۔ دونوں ہی بہت اہم ہوائی، بحری اور تجارتی مرکز ہیں۔ مگر سنگا پور دُبئی کا زیادہ سنبھلا ہوا، مہذب، خاندانی بڑا بھائی لگتا ہے۔ 

یہاں کا ائیر پورٹ بے حد خوبصورت ہے۔ یہ پہلا احساس یہاں اُترتے ہی ہو جاتا ہے۔ سنگا پور ائیرلائن دنیا کی بہترین ائیرلائن شمار کی جاتی ہے۔ ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کسی خود کار دنیا میں آگئے ہیں۔ ہر چیز صاف ستھری، سب کاروبارِ دنیا ایسے نظم و ضبط  اور کمال خوبصورتی سے چل رہا ہے۔

آرچرڈ روڈ یہاں کی سب سے مشہور سڑک ہے۔ کشادہ سڑک، دو رویہ درخت اور خوبصورت پودے، شاپنگ اور کھانے پینے کی بہترین جگہیں یہیں ہیں۔ تو ہم نے اسی سڑک پر ہوٹل لیا۔ ایک انوکھا تجربہ یہ بھی ہوا کہ جب ہوٹل میں امریکی ڈالر دینے کی کوشش کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بولے ہم تو صرف سنگا پور ڈالر ہی قبول کرتے ہیں۔ چھٹی کا دن تھا۔ شام ہو گئی تھی۔ بڑی مشکل سے باہر ایک شاپنگ مال میں  ایکسچینج نظر آیا۔ وہ بھی بس بند ہی کر رہے تھے۔ شکر ہے کرنسی تبدیل ہوئی اور ہم نے واپس آکر ہوٹل کا کرایہ ادا کیا۔ میرے تجربے میں تو یہ واحد ملک ہی تھا جس نے امریکی ڈالر لینے  سے انکار کر دیا۔

خوب پر رونق علاقہ تھا، باہر ہر طرح کے کیفے اور ریسٹورینٹ۔ اگرچہ سرکاری زبانیں چار ہیں، کیونکہ یہاں مختلف رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں مگر انگریزی ہر کوئی جانتا ہے۔ انکے بولنے کا لہجہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں معیارِ زندگی بہت بلند ہے۔ ہر کوئی خوش لباس، خوش مزاج اور تعلیم یافتہ دکھائی دیتا ہے۔ بس کمی ہے تو موسم کی۔ موسم یہاں نہیں ہوتے۔ سارا سال ایک جیسا درجہ حرارت، سِیلا ہوا موسم، صبح اور شام تو ذرا بہتر ہوتے تھے مگر دن بھر تو اسی میں خیر تھی کہ اندر ائیر کنڈیشنڈ جگہوں میں ہی رہیں۔ اسی لئے آرچرڈ روڈ میں اگر ایک شاپنگ مال میں نیچے اُتر جائیں تو اندر ہی اندر جتنا چاہیں چلتے جائیں۔ ہر تفریح کا سامان شاپنگ اور کھانا پینا سب موجود ہے۔ یہاں کی رنگا رنگ ثقافت کی وجہ سے دستر خوان بھی وسیع ہے۔ ہر ذائقے کے لئے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔

صبح اُٹھ کر سوچا کہ سنگا پور کی سیر کر لیں۔ ہمارے ہوٹل کے سامنے ہی انکی دو منزلہ بس کا سٹاپ تھا جو شہر کے مشہور علاقوں میں رُکتی ہے۔ ہم نے خوشی خوشی چوبیس گھنٹے کا ٹکٹ لے لیا۔ اس میں یہ فائدہ ہے کہ جہاں چاہیں اُتر جائیں اور پھر اُسی سٹاپ پر دوبارہ وہیں بس آجاتی ہے ۔

ایک دلچسپ علاقہ تو لٹل انڈیا Little India  لگا۔ ہندوستانی سنگا پور میں 1919ء میں انگریزوں کے ساتھ آئے۔ ان میں زیادہ تر سپاہی، گھریلو ملازمین اور دھوبی درزی وغیرہ تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ روزگار اور تجارت کی تلاش میں اور بھی آکر یہاں کے ہی باسی بن گئے۔

بس سے اُترے تو لگا جنوبی ہند کے کسی شہر آ گئے ہیں۔ وہی پوجا کے ہار، مندر، مسجد، اگربتیوں کی خوشبو، ایک بڑے ہال میں سینکڑوں چھوٹی چھوٹی دکانیں۔ باہر لکڑی کے میز اور سٹول۔ جس کو جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے اور جہاں سے چاہے کھانا لے کر کھالے۔ اتنا ہجوم اور اتنا ہنگامہ کہ کیا بتاؤں۔ کھانے کے علاوہ سناروں اور درزیوں کی بھی بے شمار دکانیں۔ سامنے بازار میں ریشم اور سوتی کپڑوں کی بھرمار۔

یہاں کچھ گھوم پھر کر دوبارہ بس میں بیٹھے اور چائنہ ٹاؤن China Town  کا رُخ کیا۔ یہ بھی اپنی طرز کا انوکھا علاقہ ہے۔ بَل کھاتی تنگ گلیوں کی ایک بھول بھلیاں ہے۔ دکانوں اور عمارتوں کے شوخ رنگ، کھانے پینے کے بےشمار چھوٹے چھوٹے سٹال، نوادرات، ملبوسات، دستکاری کے نمونے، تحائف جو چاہیں خریدیں۔

چینی بھی لگ بھگ ہندوستانیوں کے ساتھ ہی سنگاپور پہنچ کر آباد ہوئے۔ انگریز راج کو جب زیادہ محنت کش اور ہنر مند کاریگروں کی ضرورت پڑی تو چینیوں کا نمبر آیا۔ بعد میں بہت سارے تجارت کی غرض سے بھی آئے۔ اس وقت سنگا پور میں چینی نژاد شہری آباد ی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہیں۔

چائنہ ٹاؤن کے ہجوم بے کراں اور گرمی نے اس وقت تک خاصا پریشان کر دیا تھا۔ مچھلی اور باقی سمندری مخلوق کو کھانے کی اتنی چاہت نہیں تھی۔ ایک ڈھا بے سے تازہ تربوز کے جوس کے گلاس لئے۔ ایک چھوٹا سا ریسٹورینٹ نظر آیا جو اندر سے ٹھنڈا تھا۔ مالک باہر ہی کھڑا تھا۔ ہمیں گھیر گھار کر اندر لے گیا۔ ہندوستان کا مسلمان تھا۔ اب پتہ نہیں چائنہ ٹاؤن میں کیا کر رہا تھا۔ آلو کے پراٹھے بنا کر لایا۔ کچھ ایسے خاص تو نہیں تھے مگر بھوک لگی ہو تو پردیس میں کچھ بھی مزیدار ہی لگتا ہے۔

کچھ تھکن اور کچھ گرمی سے پریشان ہو کر ہم نے سوچا کہ واپس چلیں۔ بس میں بیٹھے، اس نے ایک دفتر نما عمارت کے آگے اتار دیا ۔ ہم نے تو اُس سٹاپ پر جانا تھا جہاں سے ہم روانہ ہوئے تھے۔ 

"سات بج گئے ہیں اور اس کے بعد بس نہیں چلتی۔” ڈرائیور صاحب نے یہ جواب دیا اور غائب ہو گئے۔

لاحول ولا قوۃ۔ تو پھر چوبیس گھنٹے کا ٹکٹ کیوں دیا۔ وہاں کوئی ہوتا تو اُس سے پوچھتے۔ اندھیرا ہو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے ایک ٹیکسی ملی اور ہوٹل واپس آئے۔ سچ ہے زیادہ بااصول اور ترقی یافتہ ملکوں کے بھی اپنے مسائل ہیں۔

اگر چہ سنگا پور کا زمین دوز Underground ریل کا نظام بہت ہی اعلیٰ ہے مگر چند دن کے لیے کہیں جائیں تو ہم زمین کے اوپر سفر کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ آتے جاتے کچھ شہر بھی نظر آجاتا ہے۔ ٹیکسی بہت آرام سے مل جاتی ہے تو اسی پر بیٹھ کر سنتوسا جزیرے Sentosa Island کا رُخ کیا۔ سنگا پور ایک بڑے اور تریسٹھ 63 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ بارش بہت ہوتی ہے تو کسی زمانے میں یہ سارا علاقہ قدرتی جنگلوں پر مشتمل تھا۔ مگر اب آبادی بڑھنے کی وجہ سے زیادہ تر رہائشی اور کاروباری عمارتیں ہی نظر آتی ہیں۔ پھر بھی حکومت نے زمین کی بے حد کمی کے باوجود 10 فیصد علاقہ باغوں اور سبزے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ یہاں کا 165 سال پراناBotanical Garden  بھی بہت مشہور ہے۔

شام کو ہم نے غروبِ آفتاب دیکھنے کے Cruise پر جانے کا سوچا۔

یہ شام ڈھلنے سے ذرا پہلے سنگاپور کی خوبصورت بندرگاہ سے شروع ہوتا ہے ۔ پانی سے دیکھیں تو سب کچھ بہت الگ اور دلفریب لگتا ہے۔ سب سے پہلے مشہور زمانہ Merlion  جو سنگا پور کی ہر تصویر میں نظر آتا ہے۔ یہ ایک عجیب سے شیر کا مجسمہ ہے جو سیڑھیاں چڑھ کر ایک چبوترے پر نصب ہے۔ اس کے منہ میں سے پانی نکل کر سمندر میں گر رہا ہے۔ سیڑھیوں پر ہر وقت سیاحوں کا ہجوم رہتا ہےجو اسکے ساتھ تصویریں کھنچواتے ہیں۔ 

سنگاپور میں ایک سال میں یہاں کی مکمل آبادی سے دوگنے سیاح آتے ہیں۔ اور اس شیر کو تو ہر کوئی ضرور دیکھنے آتا ہے ۔ شاید اس ملک کے نام کی وجہ سے اس کی زیادہ شہرت ہے۔ یہاں کا قدیم نام سنگا پورہ تھا۔ سنگا سنسکرت کے لفظ سے لیا گیا ہے جس کا مطلب شیر ہے اور پورہ تو شہر۔ جیسے ہمارے ہاں شیخوپورہ اکبر بادشاہ نے اپنے بیٹے کے نام سے بسایا تھا۔

دبئی کی طرح یہاں بھی عجیب و غریب عمارتیں بنانے کا رواج ہے۔ اسکی ایک مثال Sands Marina Bay Hotel ہے جہاں کشتی روک کر ہمیں گھومنے پھرنے کے لئے کچھ وقت دیا گیا۔ تین بلند و بالا ستون نما عمارتوں کے اوپر ایک بیضوی عرشہ ہے۔ جس میں دنیا کا سب سے لمبا سوئمنگ پول بنا یا گیا ہے۔

پھر سنگاپور فلائر Singapore Flyer یعنی بجلی سے چلنے والا ہنڈولہ۔ ہنڈولے سے ذرا سے فاصلے پر ہی ایک اور غیر معمولی عمارت ہے۔ کنول کے پھول کی طرز پر بنا ہوا۔ یہاں کا آرٹ اور سائنس میوزیم۔ اسکی چھت رات کو کھول دی جاتی ہے ۔ دن بھر کی بارش سے جمع پانی ایک آبشار کی طرح نیچے آتاہے۔ اس پر روشنیاں ڈال کر سیاحوں کو خوش کرتے ہیں۔

ایک بہت عزیز دوست کا بیٹا یہاں ایک بین الاقوامی ادارے میں بہت اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔ پتہ چلا کہ وہ خود بھی ان دنوں سنگا پور میں ہی ہیں۔ ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بہت محبت سے کھانے کی دعوت دی۔ ایک سرسبز عالیشان رہائشی  علاقے میں انکا اپارٹمنٹ تھا۔ دائرے کی شکل میں عمارت ایسے بنائی گئی ہے کہ اندر ایک گول صحن بن جاتا ہے۔ اس میں فوارے اور خوبصورت آرائشی پودوں کی سجاوٹ دیکھنے والی تھی۔ اور ہر اپارٹمنٹ کی بالکونی سے لہراتی سبز بیلیں عجیب منظر پیش کرتی تھیں۔ یہاں کے موسم کی وجہ سے بیل بوٹے خوب پھلتے پھولتے ہیں۔

سنگا پور جیسی جگہ میں جو دنیا کے مہنگے ترین ملکوں میں ہے۔ خاص طور پر غیر ملکیوں کے لئے۔ خاصا وسیع و عریض اپارٹمنٹ۔ بہت سلیقے سے سجایا گیا۔ پیچھے کشادہ برآمدے سے دور تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا۔ دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔ اور فخر محسوس ہوا کہ ہمارے بچے اتنی ترقی کر کے اس ملک میں ایسا رہن سہن رکھ رہے ہیں۔

بہت اچھی گپ شپ رہی۔ رات کو ایک بے حد شاندار ریسٹورینٹ میں کھانے پر لے گئے۔ انگریز راج کی یادگار جگہ۔ وہی لکڑی کے خوبصورت پالش شدہ فرش، چھتیں اور دیواریں،  بہت شائستہ ماحول، دوستوں کا ساتھ، مزیدار گپ شپ اور لذیذ کھانا ملے تو اور کیا چاہیے۔

ہمیں بھی موقع ملا یہ دیکھنے کا کہ سنگاپور میں متمول لوگ کیسے رہتے ہیں۔ اتنی خاطر تواضع کے بعد ہمیں ہوٹل تک چھوڑنے آئے۔ بہت یادگار دن گزرا۔

کچھ دلچسپ حقائق بھی پتہ چلے۔ سنگاپور میں گاڑیاں دنیا میں سب سے مہنگی ہیں۔ حکومت بہت بھاری ٹیکس لگاتی ہے۔ تاکہ کم سے کم گاڑیاں سڑکوں پر آئیں اور ماحول میں آلودگی نہ ہو۔ صحت اور تعلیم کے علاوہ حکومت شہریوں کے جِم Gym کی فیس میں بھی مدد کرتی ہے تاکہ عوام ورزش کرے اور صحت مند رہے۔ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی طرح  یہاں بھی آبادی کی شرح گر رہی ہے۔ نوجوان جوڑے بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ ویسے اس سلسلے میں ہم کافی مدد کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو محسوس ہوتا ہے ماشاءاللہ بچے بارش کے قطروں کی طرح ٹپکتے ہیں۔

سنگاپور میں کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور میرا خیال ہے اسی میں انکی ترقی کا راز ہے۔ یہ سبق ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے۔ ویسے اگر آپ ابھی تک سنگاپور نہیں گئے تو لتا جی کے مشورے پر جیون میں ایک بار ضرور چلے جائیں۔ انوکھا ملک ہے۔

3 responses to “جیون میں ایک بار۔۔۔۔”

  1. Qaisera, as always, the vivid description of Singapore felt like I was enjoying the visit along with you. Unfortunately I have not been there yet but it is on my bucket list. Having grown up listening to to Lata جیون میں ایک بار آنا سنگاپور must be reason that it is still on my mind. Thanks for sharing the experience.

  2. Qaisra G
    After reading your article I always feel like visiting that place because your expression is amazing!
    I included Singapore in my wish list!
    Keep writing!
    Looking forward your next adventure

  3. I remember the song ! so glad that you took me to Singapore with you. reading your article i felt i was there enjoying the sights and scenes and love your style of weav in information pieces when describing your travel experience –keep up your writing

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے