بہشت بر روئے زمیں۔۔۔۔

مغل بادشاہوں نے کشمیر کو جنت نظیر قرار دیا تھا مگر ہالی وڈ (Hollywood)  کی فلموں نے تو بالی کو  زمین پر بہشت کا درجہ دے رکھا ہے۔

الزبتھ گلبرٹ Elizabeth Gilbert  کی لکھی کتاب Eat Pray Love اور اسی نام پر بنی جولیا رابرٹس  Julia Roberts کی فلم نے بھی بالی کو بہت شہرت بخشی ۔

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا مغربی ملکوں کے  سیاحت سے متعلق اشتہاروں میں ایک نیلا شفاف سمندر، ایک پام کا درخت، اس کے ساتھ بچھی دو کرسیاں، درمیان میں میز پر دو جام کسی سنہری یا ا رغوانی مشروب کے ساتھ، سامنے نارنجی سورج کا تھال، فیروزی پانی میں ڈوبتا ہوا، آسمان پر شفق کے گلابی رنگ، اگر زیادہ تفصیل ہو تو برائے نام مختصر لباس میں ایک سیمیں بدن دوشیزہ، اور ایک ورزشی جسم والا خوبرو مرد بھی دکھائی دیں گے۔

شاید ٹھنڈے ملکوں میں رہنے والوں کے لیے جنت کا یہی تصور ہے اور اس پر بالی سو  فیصد پورا اترتا ہے۔ مگر ہم جیسے گرمی کے مارے ملکوں سے جانے والے تو خنک ہواؤں کے جھونکے ڈھونڈتے ہیں۔ شفاف سمندر، چاندی جیسی ریت کے ساحل اور ہریالی کا سارا حسن گرمی اور پسینے کی نظر ہو جاتا ہے۔

ہاں اگر آپ کو Water Sports میں دلچسپی ہے، چٹانوں سے آبشاروں اور جھیلوں میں چھلانگیں لگانا، غوطہ خوری زیرِ آب تیرنا اور چمکتی دھوپ میں سفید ریت پر لیٹنا اچھا لگتا ہے تو بالی آپ کے لیے بہت موزوں ہے۔

یہ مشغلے جوانوں کے ہیں۔ اسی لیے سفید فام نوجوان جوڑے پتلی پتلی پگڈنڈیوں پر کرائے کے سکوٹر دوڑاتے پھرتے ہیں۔ تیراکی کے لباس کے اوپر ہی ایک جالی دار کرتہ پہنے، سنہرے بالوں کی پونی ٹیل باندھے، دھوپ سے دمکتے رخسار لیے دوشیزائیں اور بغیر قمیض کے دھوپ میں لیٹ لیٹ کر تانبے جیسے رنگ کے بدن لیے نوجوان مرد، گرد آلود پگڈنڈیوں اور بل کھاتی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں  پر  دھول اُڑاتے، ہنستے مسکراتے، آتے  جاتے نظر آتے ہیں۔ جو سورج ہمارے لیے تکلیف دہ تھا شاید ان کے لیے وہی ایک کشش کا باعث تھا۔

ویسے بالی کا منفرد ماحول اور ثقافت سب کے لیے ایک نیا اور انوکھا تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ اسلامی ملک انڈونیشیا کے اندر بالی تین جزیروں پر مشتمل ہندو اکثریت کا علاقہ ہے۔ یہاں کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کا اپنا الگ رنگ ہے۔ یہاں کی ہندو آبادی شروع میں ہندوستان اور پھر جاوا سے ہجرت کر کے یہاں آئی مگر کئی صدیوں میں مقامی رنگوں سے مل کر اور کچھ بدھ مت سے بھی متاثر ہو کر ان کا تہذیب و تمدن اور زبان بالکل الگ ہے۔

بالی کو دیوتاؤں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں لگ بھگ 20 ہزار قدیم مندر ہیں جو ہندو دھرم رکھنے والوں کے لیے بہت مقدس مانے جاتے ہیں۔

 ہمیں بھی کچھ مندر دیکھنے کا موقع ملا۔ ان میں مجھے تو سب سے خوبصورت اور انوکھے دو لگے۔ ایک Lampuyang جو سات منزلوں پر بنا ہوا ہے۔ اسے ایک ہزار سیڑھیوں کا مندر بھی کہتے ہیں۔ یہیں پر وہ دروازہ ہے جس کے آگے تصویر کھنچوانے کے لیے قطاریں لگی رہتی ہیں اور گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اسے مقامی لوگ جنت کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔

دوسرا Tanah Lot جس کا مطلب مقامی زبان میں سمندر کی زمین بنتا ہے۔ یہ سمندر میں ایک چٹان پر بنا ہوا ہے اور اسے سمندر کے دیوتا کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ مندر تک پہنچنے کے لیے سمندر میں سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔

ہمارا سارا سفر گاڑی پر گائیڈ عزیز اور ڈرائیور رملی کے ساتھ تھا۔ دونوں بہت شائستہ اور خوش مزاج تھے۔ رملی تو مسکراتا رہتا مگر عزیز اچھی خاصی انگریزی بول لیتا تھا۔ ہماری اس سیر میں ایک باغ جو مجھے بے حد خوبصورت لگا وہ تھا Tirta Gangga یعنی گنگا تیرتھ۔ یہ یہاں کے ایک راجہ نے بنوایا تھا اور اس کا پانی ہندوؤں کے مقدس دریا گنگا سے لایا گیا تھا۔ اب بھی لوگ یہاں پانی سے نہاتے نظر آتے ہیں۔ پانی کے حوض، فوارے، پھول، درخت، مجسمے، پودے اور  مصنوعی آبشاریں بے حد خوبصورت بنائے گئے ہیں۔ اس کا سارا پانی قدرتی وسائل سے آ رہا ہے۔

بالی میں قدرت سے ہم آہنگی اور روحانی صحت و سکون پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ پانی اور اس کے بہاؤ کی ترتیب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہاں کے طلوع اور غروبِ آفتاب کے نظارے بھی بہت شہرت رکھتے ہیں۔ ہمیں بھی Nusa Penida  میں لکڑی کی ایک پرانی طرز کی تین منزلہ کشتی پر بٹھا کر خاص غروبِ آفتاب دیکھنے کے لیے لے جایا گیا۔ ساری کشتی سیاحوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ یوں تو ہر ملک کے سیاح نظر آتے ہیں مگر بھارت سے آنے والے ان میں نمایاں ہیں۔ ایک تو شاید اس لیے کہ بالی ان کے قریب ہے۔ پھر ان کا روپیہ مضبوط ہے اور دوسرے وہاں کے مندر ان کے لیے بہت مقدس ہیں۔ یوں بھی بالی دوسرے ملکوں کی نسبت سستا ہے اور ہر ذائقے کے پکوان میسر ہیں۔ کھانے پینے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ کشتی میں موسیقی، مشروبات اور رات کے کھانے کا بہت اچھا انتظام تھا۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کے نغمے ساتھ ساتھ گائے جا رہے تھے۔ کھلے سمندر میں جا کر غروبِ آفتاب دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ سورج ایک رو پہلے سنہرے نارنجی تھال کی صورت رنگ بدلتا، اچانک ہی پانی میں غائب ہو جاتا ہے۔ 

لوگ بے حد مذہبی ہیں۔ خاص کر Ubud میں۔ اپنے خاص لباس پہنے، سروں پر چڑھاوے کا سامان اٹھائے، مقامی لوگ جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر پتوں سے بنی ٹوکریوں میں اناج، پھول، چاول وغیرہ نہایت خوبصورتی سے سجے ملتے ہیں۔ یہ دیوتاؤں کے لیے بھینٹ ہوتی  ہے۔ اسے چھیڑنا یا خراب کرنا بہت بُرا  سمجھا جاتا ہے۔ تو بچ بچ کر چلنا پڑتا ہے ۔

عزیز نے ہمیں بتایا کہ یہاں مذہبی منافرت بالکل نہیں ہے۔ ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے ہیں۔ آتے جاتے ان کے گھروں کے صدر دروازے مجھے بہت دلچسپ لگے۔ اونچائی  میں زیادہ، چوڑائی میں کم اور مکان مالک کی مالی حیثیت کے مطابق دائیں، بائیں، اوپر، نیچے مقدس دیوتاؤں کے مجسموں سے سجے ہوئے۔ ان کا ایمان ہے کہ یہ دیوتا  گھر کی حفاظت کرتے ہیں۔ عزیز ہمیں اپنے ایک دوست کا گھر دکھانے کے لیے اندر بھی لے گیا۔ اس نے بتایا کہ یہاں سب گھر ایسے ہی بنائے جاتے ہیں۔ ایک کھلے آنگن میں نشست کا کمرہ، ایک اونچے چبوترے پر چھت کے نیچے چاروں طرف سے کھلا۔ اس کے علاوہ ہر کمرہ الگ الگ، کھانے کا، سونے کا، باورچی خانہ، غسل خانہ اور کافی دور دور بنے ہوئے ہیں۔ یہ یہاں کے معتدل موسم کا کمال ہی ہے کہ ایسے گھروں میں رہا جا سکتا ہے۔

ہر گھر میں فرنگی پانی کا ایک درخت ضرور ہے۔ اسے ہمارے ہاں گلچیں بھی کہتے ہیں۔ یہ پھول مقدس سمجھا جاتا ہے۔ پوجا میں استعمال ہوتا ہے۔ خواتین اسے بالوں میں سجاتی ہیں۔Mount Batur  بھی دیکھا۔ یہ بالی میں ایک Active آتش فشاں پہاڑ ہے۔ ہمت والے اس پر چڑھ کر طلوع یا غروبِ افتاب کا نظارہ دیکھتے ہیں۔ ہم نے تو اس کے سامنے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا اور وہیں سے پہاڑ اور اس کے سامنے بنی جھیل کے نظارے دیکھے۔ بہت کشادہ جگہ تھی، مگر سیاحوں سے ایسی بھری ہوئی  کہ میز مشکل سے ملتی تھی۔

بالی کی معیشیت کا انحصار سیاحت پر ہی ہے۔ سیاحوں کی تعداد کا اندازہ تو ان کے ایئرپورٹ پر اترتے ہی ہو جاتا ہے۔ یہاں سے Ubud جاتے ہوئے عزیز ہمیں ایک بہت خوبصورت راستے سے لے گیا۔ منزل بمنزل چاول کے کھیت، عزیز نے بتایا کہ یہاں سارا سال چاول اُگتا ہے۔ جیسے ہی ایک فصل تیار ہوتی ہے دوسری بو دیتے ہیں اور اس کے ساتھ مالٹوں کے باغ، درخت پھلوں سے لدے ہوئے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے اکثر پھل شکل اور ذائقے میں بالکل الگ ہیں۔ راستے میں جگہ جگہ پھلوں کے ٹھیلے تھے۔ ناریل پانی اچھا ہے مگر ویت نام جیسا نہیں۔ عزیز کے اصرار پر پہلی دفعہ Durian چکھا۔ کہتے ہیں سونگھو تو جہنم، کھاؤ تو جنت، اچھا تھا مگر مجھے تو کچھ خاص نہیں لگا۔ کاٹ چکے تھے تو رملی اور عزیزنے خوب کھایا۔ عزیز نے بتایا کہ گاڑی میں نہیں رکھ سکتے نہ ہی کوئی ہوٹل والا کمرے میں لے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ ایسی بدبو پھیلتی ہے کہ کئی دن نہیں جاتی۔ پھر بھی ان علاقوں کا بے حد مقبول پھل ہے، پسند اپنی اپنی۔

عزیز ہمیں ایک Coffee Plantation کافی کے باغات میں بھی لے گیا۔ پہلی دفعہ ونیلا کی پھلیوں کے پودے دیکھے۔ اس کے علاوہ کالی مرچ، دار چینی ، لونگ، الائچی سب پودے جو ہمارے ہاں نہیں اگائے جاتے۔ مگر وہاں کی سب سے انوکھی سوغات دنیا کی مہنگی ترین کافی ہے۔ جسے Kopi Luwak  کہا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا لومڑی نما جانور، جس کا نام Luwakہے، کافی کی Beans درختوں سے چن کر کھاتا ہے۔ کہتے ہیں اسے اعلی ترین Beans کی پہچان ہے۔ پھر اس کے فضلے سے یہ Beans نکالی جاتی ہیں وہاں موجود عملے نے بہت یقین دلایا کہ ہم انہیں خوب صاف کرتے ہیں، پھر بھون کر پیستے ہیں۔ مگر مجھے تو سوچ کر ہی کپکپی آ گئی۔ جو یہ کافی پیتے  ہیں انہیں ہی مبارک۔

Ubud کے قریب ایک بندروں کا جنگل بہت مشہور ہے۔ وہاں جانا بھی ہمارے پروگرام میں شامل تھا۔ مگر ہم نے صاف انکار کر دیا۔ میں کئی ویڈیو دیکھ چکی تھی جس میں بندر سیاحوں کے چشمے، بیگ وغیرہ اچک کر لے جاتے ہیں۔ ہماری اپنی گلیات میں بہتیرے بندر ہیں۔ خانس پُور میں مجھے ان کی کارستانیوں کا خوب اندازہ ہے۔ درختوں کے پھل توڑ لیتے ہیں، بچوں کے ہاتھوں سے کھانے پینے کا سامان چھین لیتے ہیں، ابھی پچھلے سال ہی ایوبیہ کے قریب ہم چھلی لینے کے لئے رُک گئے۔ اتفاق سے میری طرف گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ نیچے تھا۔ جانے کہاں سے ایک بڑا سا بندر چھلانگ لگا کر آیا ا ور وہاں بیٹھ گیا۔ کافی خوفناک تھا۔ میری تو جان نکل گئی، پنجہ مارے یا منہ نوچ لے جانور کا کیا بھروسہ۔ کچھ دیر مجھے گھور کر خوں خوں کرتا رہا۔ پھر خدا نے اس کے دل میں کوئی رحم ڈالا تو آپ ہی چلا گیا۔ میں نے جلدی سے شیشہ اونچا کر کے اطمینان کا سانس لیا۔

بالی میں ہوٹل اور ریزورٹ Resort بے حد پر آسائش، پرکشش، کشادہ اور سر سبز ہیں۔ زیادہ تر سمندر کے کنارے ہیں۔ نیلا فیروزی شفاف سمندر، اس کے پیچھے ہرے بھرے درختوں اور پھول دار بیلوں کے درمیان سوئمنگ پول، بیل بوٹوں اور پھول پودوں کی تزئین و آرائش بہت ہی دیدہ زیب۔ صبح ساحل کے کنارے نہایت پر تکلف ناشتہ، گورے سیاح تو  صبح سے رات تک  سمندر میں یا سوئمنگ پول میں ہی نظر آتے ہیں۔ پانی سے نکلے تو دھوپ میں لیٹ گئے۔ ہر کسی کے ہاتھ میں رنگ برنگے مشروب۔

 لیکن اگر ہماری طرح آپ کو بھی پانی میں اترنے یا دھوپ میں لیٹنے کا اتنا ذوق و شوق نہیں تو Spa  کا رخ کریں۔ اندر داخل ہوتے ہی دھیمی دھیمی روشنی میں بھینی بھینی خوشبوئیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ با ادب لڑکیاں ہاتھ جوڑ جوڑ کر خوش ذائقہ قہوہ پیش کرتی ہیں۔ پھر گلاب کی پتیوں والے پانی سے پیتل کی پراتوں میں آپ کے پاؤں دھلاتی ہیں اور ان کی انگلیوں میں تو بس جادو ہے۔ دو گھنٹے کے مساج کے بعد اپ کو بھی ہماری طرح بالی جنت لگنے لگے گا۔

3 responses to “بہشت بر روئے زمیں۔۔۔۔”

  1. We were sitting in your garden and you were telling me all about your travels to Bali —this is how i felt when I read your article about Bali ; it is a unique destination as the beach goers and travels buffs like it for different reasons ; i love how you weave in the personal experiences with history and; I may not travel to Bali but your article gives me a feeling that I have been there along with you

  2. Wah, Wah, phar key maza aa gaya-
    Qaisera,, I have never been to Bali but have heard lot. But the way you described it, I am putting Bali on my list to visit.Thanks for sharing your experience.

  3. شازیہ عفیف Avatar
    شازیہ عفیف

    قیصرہ مامی آپ کی تحریر پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے ہم خود بالی کی گلیوں اور ساحلوں میں گھوم رہے ہوں۔ آپ نے نہایت دلنشیں انداز میں قدرتی حسن، مقامی ثقافت اور ذاتی مشاہدات کو سمیٹا ہے۔ جملوں کی روانی، منظر نگاری اور جذبات کی عکاسی نے دل کو چھو لیا۔ اس انداز سے پیش کیا کہ خود کو وہاں موجود محسوس کرتا ہے۔ خاص طور پر "جنت کا دروازہ”، "تنہ لوط” اور "تیرتا گنگا” کے مناظر کا بیان، اور Spa کے روح پرور تجربے کی تفصیل، تحریر کو روحانی گہرائی عطا کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے