آفریں آفریں

بہت پرانی بات ہے جب ابھی سیاحت کی وادیوں میں ہم نے دھیرے دھیرے قدم رکھا ہی تھا۔ چند خواتین سے ملاقات ہوئی جو انہی دنوں شام، لبنان اور اردن کے سفر سے واپس لوٹی تھیں۔ ان تین ممالک کا کوئی جوڑ میری سمجھ میں نہیں آیا تو میں نے آخر پوچھ ہی لیا۔

آپ نے ان تین ممالک کا انتخاب کیسے کیا۔۔۔؟

ہمارا سیاحت میں اصول ہے کہ یہ تین خوبیاں جہاں ہوں وہیں جائیں گے۔ سہانا موسم، مزیدار کھانا اور خوش شکل لوگ۔

ہم نے بھی بات پلے باندھ لی اور سالہا سال تک بس یورپ کا ہی رخ رکھا۔ بار بار دیکھنے کے بعد وہاں کی کشش بھی کچھ کم ہوگئی۔ جب بھی مشرق بعید Far East کا خیال آیا، انہی تین اصولوں نے روک ڈال دی۔

اب جب ہر بار نئے ملک کی فہرست کم ہوتی گئی۔ دنیا میں پاکستانیوں کے لئے ویزے کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر آسمان کو چھونے لگی تو فیصلہ ویت نام کے حق میں ہوا۔ وہاں جا کر احساس ہوا کہ یہاں پہلے نہ آ کر ہم نے اپنے ساتھ ہی زیادتی کی۔

ہماری پہلی منزل ہو چی من شہر Ho Chi Minh City تھا۔ اسے پہلے Saigon سایگون کہتے تھے۔ اسکے بعد جنوب سے شمال تک سارا ملک دیکھا۔ نومبر کا مہینہ تھا، تو موسم اچھا خاصا تھا۔

کچھ سفر ہوائی جہاز میں، کچھ بس میں اور کہیں کشتی کی سیر ، Hue, Hoian, DaNang قدیم محل، عبادت گاہیں، سنہرا پل Golden Bridge جسے لگتا ہے دو ہاتھوں نے تھاما ہوا ہے۔ سمندر، دریا، جھرنے، آبشاریں، جھیلیں، آنکھیں تازہ کرنے والی ہریالی، نہایت حسین ملک ہے۔

سب کچھ دیکھتے ہوئے Sapa پہنچے جو ملک کے شمال میں واقع ہے۔ وہاں کا موسم ٹھنڈا ہے۔ چبوتر نما سیٹرھیوں کی طرح پہاڑیوں پر لگے چاولوں کے کھیت خوب بہار دیتے ہیں۔

یہاں سے Hanoi کا سفر تو بے حد یادگار تھا۔ ایسی پر آسائش بس کہ کیا بتاؤں۔ ڈرائیور نے سب کے جوتے باہر اتروا لئے، دو منزلہ بنی لمبی نشست، چاہیں تو سو جائیں، سامنے ٹیلی وژن۔ ایک ریموٹ دبائیں تو جسم کے مختلف حصوں میں Massage کے مزے لیں۔

Hanoi میں ہمارا قیام پرانے شہر میں تھا اور شہر کی روح کا صحیح ادراک وہیں ہوتا ہے۔ پر رونق بازار، ان میں بھی طرح طرح کی دست کاریاں۔ فٹ پاتھ پر چھوٹے چھوٹے ڈھابے لگائے خواتین ہر طرح کا کھانا اور پھل لے کر بیٹھی ہوئیں۔ ہر چوتھی دکان سے مساج مساج کی آواز بلند ہوتی ہوئی۔ یوں تو پورے ملک میں ہی کاریگری کے بے بہا نمونے نظر سے گزرتے ہیں مگر اس بازار کی گہما گہمی اور بھاؤ تاؤ کا اپنا ہی مزا ہے۔

یہاں کا مشہور پانی میں پُتلیوں کا تماشا Water Puppet Theatre بھی دیکھا۔ یہ یہاں کی قدیم روائیت ہے اور مجھے تو بے حد پسند آیا۔

پھر یہاں کا مشہور کھانا Pho جو ایک طرح کا سوپ ہی ہے۔ مگر کافی لوازمات کے ساتھ اور Banhmi سینڈوچ ۔ ذائقہ کچھ جانا پہچانا اور کچھ منفرد بھی ۔ Sea Food پسند نہ کرنے والوں کے لیے۔

بعض جگہ خاصی مشکل ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر جب طشتری میں رکھے سالم جھینگے اپنی مونچھوں اور آنکھوں سمیت آپ کو گھور رہے ہوں۔ مینو میں سانپ اور مینڈک دیکھ کر بھی جلدی سے نظر دوسری طرف پھیرنی پڑتی ہے۔

یہاں کے پھل بھی بے حد خوبصورت، خوش ذائقہ اور منفرد ہیں۔ اور ناریل پانی کا تو جواب نہیں۔ ایسا ذائقہ اور کہیں نظر نہیں آتا۔ سڑکوں کے کنارے خواتین ٹھیلے لگا کر بیٹھی ہیں۔ وہیں چھوٹے چھوٹے سٹول بچھا کر آپکو بٹھا دیتی ہیں۔ ناریل ایسی نفاست اور مہارت سے چھیل کر آپ کے ہاتھوں میں پکڑاتی ہیں کہ انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ پہلے پانی پئیں۔ پھر اس کی ملائی کھائیں، کھانا اور پینا دونوں مکمل۔

یہاں سے Ha Long Bay کا Cruise تو ہمارے سفر کی جان اور شان تھا۔ اب بھی ایک خوبصورت خواب کی طرح یاد آتا ہے۔ ایک رات ہم نے اسی تین منزلہ نہایت آرام دہ اور پر آسائش کشتی میں گزاری۔ مزے مزے کے کھانے، حسین اور دلفریب منظر و نظارے، باقی دنیا کے سمندری سفر سے بالکل الگ۔ اور وہاں دیکھے جانے والا غروبِ آفتاب تو کمال ہی تھا۔ انسان مسحور ہو کر رہ جاتا ہے۔

میں نے Hanoi کی ایک ٹریول ایجنٹ کے ساتھ سارا Tour بک کیا تھا۔ اسکے ساتھ فون پر ہی رابطہ رہا۔ مگر ہر جگہ انکے نمائندے موجود ہوتے تھے۔ انگریزی زبان بالکل نہیں سمجھتے تھے مگر کہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

ویت نام نے سیاحت کو اتنی ترقی دی ہے کہ ایک سائنس بنا دیا ہے۔ جیسے ایک مشین کا ہر پرزہ دوسرے سے مل کر کام کرتا ہے اور پوری مشین خوب عمدگی سے چلتی رہتی ہے۔ سارا نظام بے حد سہولت سے رواں دواں ہے۔ ہر انسان ذمہ داری، خوش اخلاقی، خوش مزاجی، تحمل اور محنت سے اپنا اپنا کام کر رہا ہے۔

خواتین ہر میدان میں پیش پیش ہیں۔ گھر بھی چلا رہی ہیں، بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں، دکانوں پر بیٹھی ہیں، گاڑیاں اور سکوٹر دوڑا رہی ہیں۔ کشتیاں کھے رہی ہیں۔

سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والی نو جوان لڑکیاں تو آپکا دل موہ لیتی ہیں، سیاہ سیدھے بال، گہرے رنگوں میں سادے کپڑے کی لمبی قمیض، سفید کھلا پاجامہ، کمر اتنی نازک کہ بالشت بھر میں سما جائے۔ ساری قوم کے مزاج میں انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ جہاں بھی بدھ مت کے قدم گئے وہاں کے لوگوں میں تحمل، انکساری اور خوش اخلاقی کا پہلو نمایاں ہو گیا۔

یوں تو ویت نامی قوم کی بہت سی خوبیاں نظر آئیں۔ مگر سب سے بڑھ کر انکی ہمت کو سلام، آفرین ہے کہ ایک غریب کمزور قوم ہوتے ہوئے انہوں نے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے۔

مشکلیں اٹھائیں، سر کٹا دیے، مگر جھکائے نہیں۔ بغیر کسی بیرونی مدد کے کئی سال تک جنگ کے مصائب جھیلے اور آخر اپنے آپ کو دنیا کا بادشاہ سمجھنے والے ملک کو اپنی تمام تر طاقت اور دولت کے باوجود کھسیانا ہوکر یہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

اُس وقت سے نہایت محنت سے اپنے ملک کی معیشت کی ترقی میں ہر فرد حصہ لے رہا ہے۔ اتنی سمجھ ان میں ہے کہ سیاحت میں ترقی اور معیشت کو آگے لے جانے کے لئے کسی بھی ملک اور قوم کی دشمنی ایک روک بن جاتی ہے۔ ہر امریکن اور سفید فام قوم کے سیاح کو بھی ویسے ہی خوش آمدید کہتے ہیں جیسے باقی دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں کو۔

کاش ہم بھی اپنی تنگ نظری اور عدم برداشت چھوڑ کر اس عظیم قوم سے کوئی سبق سیکھ لیں۔

10 responses to “آفریں آفریں”

  1. Excellent description of Vietnam travel.The writing compels you of thinking to visit this beautiful country. Thanks for sharing

    1. Thanks Nasir. I am so glad you enjoyed reading it. Got a comment from Ghazala also

  2. Qaisera, great article, covering everything from history to geography to sightseeing. I don’t know if Buddhism has played much role – look at Japan, Korea and China – all Buddhist , but with a lot of cruelty in their histories. Also, the other contrast is that women in the far east are so active in the economy, while in Muslim countries it is such a taboo

    1. Thanks, Bhaijan. You are right, but I only experienced Thailand, Nepal, and Vietnam. I thought it is Buddhism that makes them humble. And for sure women in Far East are very hard working. Maybe because their men don’t work. In Muslim countries probably women are protected and taken care of

  3. Really enjoyed reading about Vietnam; Qaisera , you have captured the soul of the country and its people and an inspiring commentary where other countries and its people can take a lesson! Well done ; keep it up ; I wait for the next one 👍

    1. Thank you. Really glad that you enjoyed reading.

  4. Qaisera , as always great description of your observations.I always enjoy your description, particularly if I have been there myself. You always make it so vivid reminder of my own experiences of the place.I had also enjoyed Vietnam and was impressed with Hanoi and Halong bay (Sp?). People were generally pleasant and it seems Vietnam has done well post war

    Thanks for sharing your experiences

    1. Thanks. I am really happy that you enjoyed the article

  5. Beautifully written blog well worded and also beautifully explained like always I felt I was taking a tour with you well done. Thanks for taking us through Vietnam

    1. Thank you Naseem Bhaijan for your encouraging words. Such comments are my real reward

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے