
اسی سال نیپال کا سفر غیر متوقع طور پر اچانک طے پایا۔ ہمارے پاس جولائی کا آخری ہفتہ ہی فارغ تھا۔ کوئی ویزا لینے کا وقت نہیں تھا۔ میں نے وہ چند ملک دیکھنے شروع کئے جہاں پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت نہیں اور نظر انتخاب نیپال پر گئی۔ ویسے آپس کی بات ہے کوئی اتنی لمبی اور مَن لُبھانے والی فہرست تھی بھی نہیں۔
نیپال ویسے تو ایک مُدّت سے میری فہرست میں تھا۔ مگر مجھے ضد تھی کہ پی آئی اے کی سیدھی فلائٹ کھٹمنڈو جایا کرتی تھی۔ اب پڑوس میں ملک ہے، تو میں دُبئی سے گھوم کر کیوں جاؤں۔ مگر پھر سوچا کہ نیپال دیکھنا ہے تو ایسی بیکار ضد سے کیا فائدہ۔
ایک نیپالی کمپنی سے بات چیت کے بعد ہم نے پورا Tour بُک کر دیا۔ جب میں نے انہیں کہا کہ پاکستان سے ڈالر باہر بھیجنا بہت مشکل ہے۔ میں وہیں پہنچ کر نقد دے دوں گی تو کمپنی کے مالک نے بغیر کسی اعتراض کے ہم پر اعتبار کیا۔ اس طرح نیپال کا بہت ہی اچھا پہلا تاثر قائم ہو گیا۔
دبئی کے چٹیل ریگستان کے بعد نیپال میں جہاز اترنے کا نظارہ تو بس کمال ہی تھا۔ سبزہ ہی سبزہ اور پہاڑ ہی پہاڑ۔ ساون کا مہینہ چل رہا تھا۔ اتنی ہریالی کہ آنکھیں تر ہو گئیں۔
ائیر پورٹ پر کمپنی کا ڈرائیور ہمیں لینے کے لئے موجودتھا۔ بہت ہی پھُرتیلا، ہوشیار اور ہر طرح سے ہر وقت ہماری سہولت کا خیال کرنے والا۔ اُسکا نام "ڈِبیا” تھا جو ہمیں بہت عجیب لگا مگر انکے ہاں عام نام ہے۔
نیپال ایک ہندو سلطنت تھی مگر اب یہاں جمہوریت قائم ہے۔ ویسے اب بھی ہندو اکثریت کا ملک ہے۔ اس کے بعد بُدھ مذہب بھی صرف آٹھ فیصد ہے۔ عیسائی اور مسلمان تو آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ نیپال کے پاس سمندری سرحد نہیں ہے۔ ہمالیہ کے عظیم الشان پہاڑی سلسلے کے سائے میں بسا ہوا یہ دیس ہر طرف سے اپنے ہمسایہ ملکوں میں گھِرا ہواہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کا جھنڈا دو تکونوں پر مشتمل ہے۔
نیپال کا پہلا خوشگوار تا ثر یہاں پہنچ کر اور بھی گہرا ہو گیا۔ لوگ بےحد ملنسار اور مہذب۔ ہندو مت پر بُدھ تہذیب کا اثر نمایاں ہے۔ بات بات پر جھُک کر ہاتھ جوڑتے۔ ہم نے بھی نمستے اور "دھنے واد” کہنا سیکھ لیا۔ کہتے ہیں نا جیسا دیس ویسا بھیس۔
سب سے مزے کی بات یہ کہ زبان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہی اپنی اُردو جسے وہ ہندی کہتے ہیں سب بولتے ہیں۔
ٹریکنگ کے لئے یہ موسم اچھا نہیں ہوتا اس لئے یہ اِنکا ٹورسٹ سیزن نہیں ہے۔ مگر ہمیں تو بہت اچھا لگا۔ اگر چہ سب افسوس کرتے رہے کہ برف پوش چوٹیوں کے بہت واضح نظارے ہمیں نہیں ملے۔ مگر بادلوں کی آنکھ مچولی، ساون کی بھیگی ہوائیں، رم جھم کی پھوار، سبزے کے دلفریب رنگ، کبھی کبھار برسات کی طوفانی بارش، خنک موسم، اس سب نے مل کر ہر کمی پوری کر دی۔ ویسے بھی بُلند و بالا برف پو ش چوٹیوں کی ہمارے ہاں کونسی کمی ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے ملتے ہیں۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کُش۔
ہوٹل میں ہمارا دوسرا دن تھا۔ رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ ویٹر زعفرانی فرنی کا پیالہ لے کر آ گیا ۔ کہنے لگا ہمارے Chef نے سلام کہا ہے۔اور یہ میٹھا بھیجا ہے ۔ چند لمحوں میں صاحب خود آ گئے ۔ زور سے سلام کی آواز آئی تو نمستے کی تکرار کے بعد وہاں کچھ اجنبی سی لگی۔ پتہ چلا کہ فرحان صاحب ہندوستان سے ہیں۔ اسی کمپنی کے کئی ہوٹل ہیں اور یہ Corporate Chef ہیں۔ کہنے لگے پتہ چلا تھا کہ آپ مسلمان ہیں تو میں یہ بتانے آیا تھا کہ ہمارے ہاں سارا گوشت حلال ہے۔ پھر بھی کوئی خاص فرمائش ہو تو ضرور بتائیے۔
ان سے خاصی گپ شپ ہوتی رہی ۔ انہوں نے بتایا کہ نیپال ہر مذہب اور تہذیب کے معاملے میں بےحد متحمل مزاج ملک ہے ۔ آپس میں ایک ذات والوں کا دوسری سے جھگڑا ہو جاتا ہے مگر دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور مِل جُل کر رہتے ہیں۔
کھٹمنڈو کے قابلِ دید مقامات میں قدیم مندر، بدھ سٹوپا اور دربار سکوئر شامل تھے۔ جو قدیم راجوں مہاراجوں کے محلّات پر مشتمل ہے۔ لکڑی کا کام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کوئی کونہ، کوئی اِنچ سادہ نہیں۔ ہر طرف مختلف مُورتیاں اور انکے مذہب کے مطابق مقدس جانوروں کی شکلیں نہایت مہارت سے لکڑی میں تراشی گئی ہیں۔ مندروں اور محلوں کا اس طرح کا ایک سلسلہ بھگت پور میں دیکھنے کو ملا۔ جو کھٹمنڈو سے 13 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
کھٹمنڈو کے بعد ہماری دوسری منزل بندی پور تھی۔ ہمارے پروگرام میں لکھا تھا کہ یہ ایک گاؤں ہے جسے اس کی قدیم صورت میں ہی رکھ کر سنوارا گیا ہے۔ اس کی ایک ہی گلی تھی۔ تمام پرانے گھروں کو روائتی رکھتے ہوئے صاف ستھرا کیا گیا ہے۔ ہر گھر کے سامنے پھول پودے لگے ہیں۔ اکثر تو خاندان ہی مِل کر چلا رہے ہیں۔ نچلی منزل میں کیفے اوپر رہائش ایک آدھ کمرہ سیاحوں کے لئے کرایہ پر حاضر۔ مگر ہمارا قیام جس گھر میں تھا وہ خاص طور پر گورے سیاحوں کے لئے بنایا گیا ہے۔ بِندو نام کی ایک لڑکی اسے چلا رہی ہے۔ اندر کوشش کی گئی ہے کہ ہر چیز پرانے طرز کی ہو۔ پیتل کے برتنوں سے لے کر بان کی چٹائیوں تک۔ گوروں کے لئے تو اس میں شاید کوئی کشش ہو مگر ہم نے تو بس جیسے تیسے رات گزاری۔
صبح پوکَھرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ گاڑی بھی بس ٹھیک تھی مگر سڑک کا تو عالم نہ ہی پوچھیں۔ دراصل اسے بس محبت سے ہی سڑک کہ سکتےہیں۔ ورنہ ختم نہ ہونے والے گڑھوں ،اونچے نیچے پتھروں اور بل کھاتے کچے راستوں کا ایک سلسلہ تھا۔ کہتے ہیں کہ نئی سڑک بنا رہے ہیں۔ راستے میں کئی جگہ کام ہو بھی رہا تھا۔ مگر سنا ہے کئی برس سے یہی حالت ہے۔
نظارے بے حد خوبصورت تھے۔ ہمارے ساتھ ساتھ چلتا دریا، اونچے نیچے پہاڑ،سبزہ زار، کہیں کہیں پھولوں سے بھری جھاڑیاں، جہاں ذرا سی جگہ میسر ہے وہاں سیڑھیوں کی طرح چبوتروں پر فصلیں اُگائی گئی ہیں۔ مگر مستقل جھٹکوں نے اس حسن کا مزا بھی کچھ پھیکا کر دیا۔ راستے میں چھوٹے بڑے کئی گاؤں آئے۔ غریبی کے آثار بے حد نمایاں ہیں۔ مگر گندگی نہیں ہے۔ ٹوٹے پھوٹے گھروں اور خستہ حال ہوٹلوں کو بھی پھول پودوں سے سجانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ گندگی کا غربت سے تعلق نہیں ہے۔ یہ احساس کی بات ہے۔
خدا خدا کر کے 200 کلومیٹر کا سفر دس گھنٹے میں طے ہوا۔ واپسی کے لئے تو ہم نے اُسی وقت سوچ لیاکہ جہاز سے جائیں گے۔ اگرچہ کچھ زائد خرچہ تو ہو جائے گا مگر جان ہے تو جہان ہے۔ دُھند کی وجہ سے پرواز اکثر تاخیر سے جاتی ہے مگر پھر بھی صرف پینتالیس منٹ میں آپ کھٹمنڈو پہنچ جاتے ہیں۔
پو کھرا وسطی نیپال میں جھیل فیوہ کے کنارے بسا ایک خوبصورت شہر ہے۔ کوہ پیماؤں کے لئے یہ ایک اہم پڑاؤ ہے ۔ یہیں سے اناپورنا Annapurna کے پہاڑی سلسلے کو راستہ جاتا ہے۔ موسم صاف ہو تو جھیل کے پانی میں برف پوش چوٹیوں کا عکس ایک عجیب سہانا منظر پیش کرتا ہے۔
یہاں سے کچھ فاصلے اور بلندی پر نگر کوٹ ہے۔ جہاں سے ہمالیہ کے تمام پہاڑی سلسلے بمع ماؤنٹ ایورسٹ دیکھے جا سکتے ہیں۔ آسمان صاف ہونا شرط ہے۔
غروبِ آفتاب کے وقت جھیل کے کنارے روزانہ ایک خاص پوجا کا اہتمام ہوتا ہے۔ اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بَّر صغیر کے اسلام پر کس حد تک ہندوانہ رنگ اثرانداز ہوا ہے۔
سنا ہے مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ میں نیپالی کھانا بہت مقبول ہے۔ اللہ جانے وہاں کیا ملتا ہے ۔ مگر نیپال میں تو بہت ہی پھیکا۔ سادہ سا کھانا ہی دیکھا۔ پتلی دال ، بھات، ایک آدھ تلی ہوئی سبزی۔ کوئی مہنگی جگہ ہو تو چاول پر پیتل کے کٹورے سے گرم دیسی گھی ڈالتے ہیں، میٹھے کی جگہ صرف چینی ملا دہی۔
ہمارا تو زیادہ انحصار ہندوستانی جگہوں پر رہا۔ ہلدی رام کی طرز پر دکانیں ہیں جہاں بیٹھ کر کھانے کا بھی انتظام ہے۔
دکان کے مالک نے بتایا کہ کئی ہندو خاندان اورنگ زیب کے زمانے میں اس کے ظلم و ستم سے بھاگ کر پناہ لینے نیپال آ گئے تھے۔ ابتدائی زمانے میں انہیں غاروں میں چھُپنا پڑا۔ ہمارے ہاں تو اورنگ زیب کو بہت نیک اور درویش صفت بادشاہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ سچ ہے تاریخ کی کہانیاں ہر ملک و قوم کی اپنی ہی ہوتی ہیں۔
ویسے ہندوستان سے یہاں آ کر بسنے والوں نے کاروباروں پر اچھا خاصا قبضہ کر لیا ہے جو نیپالیوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
ارے میں بھی کہاں نکل گئی ۔ تو چلئے چٹ پٹے کھانوں کی طرف واپس آتے ہیں۔ وہی سموسے، پاپڑی چاٹ، ڈوسہ، گول گپے، بھیل پوری وغیرہ۔ دلّی کے چاندنی چوک جیسا مزا تو نہیں مگر ہمارے لئے غنیمت تھے۔
نگر کوٹ میں اسی کمپنی کا ہوٹل تھا جس کے Chef فرحان صاحب ہیں۔ سب سے مزیدار کھانے انہی ہوٹلوں کے تھے۔ واپسی پر اُنہیں بتایا تو بہت خوش ہوئے۔
نیپال میں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا اور جس کا ہمارے ہاں قطعی فقدان ہے وہ انکی ماحول سے محبت اور اپنے قدرتی ذخائر کی دیکھ بھال ہے۔ جھیل فیوہ میں صرف چپووالی کشتی چلائی جاتی ہے۔ ہوٹلوں میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ ہر چیز قدرتی وسائل سے بنی ہو۔ پلاسٹک وغیرہ بالکل نہ ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری اور ذاتی ہر سطح پر انہیں اس بات کا احساس ہے اور اپنے خوبصورت ملک کو ہر آلودگی سے بچاتے ہیں۔
اور نیپالی پشمینہ کی شالوں کا تو کیا کہنا۔ اُسےانہوں نے ایک صنعت بنا دیا ہے۔ طرح طرح کے خوبصورت رنگ اور دیدہ زیب ڈیزائن۔ نہ نہ کرتے بھی کچھ تو ہم نے خرید ہی لیں۔
نیپال کے لوگ بہت ہی اچھے لگے۔ سیدھے سادے، مسکراتے ہوئے، محنتی ، تیز بارش میں بھی صبح قطار در قطار موٹر سائیکلوں پر برساتیاں پہنے اپنے اپنے کاموں پر جا رہے ہوتے تھے۔
خواتین ہر جگہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ چھوٹے ہوٹل اور دکانیں سب وہی چلاتی ہیں۔ خواتین کا عام لباس شلوار قمیض ہی ہے مگر ساڑھی اور مغربی لباس بھی بہت ہے۔ کچھ بھی پہنا ہو کوئی کسی کو نہیں دیکھتا۔ خواتین کے فعّال ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ بچے بہت کم ہیں۔ یہی انکی اچھی صحت اور خوش مزاجی کا راز ہے شاید۔
غربت بہت ہے، ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے، کھٹمنڈو گھومتے ہوئے، کہیں کوئی امیرانہ طرز کا رہائشی علاقہ نظر نہیں آیا۔ جب ڈبیا سے پوچھا تو کہنے لگا یہاں کوئی بنگلوں میں نہیں رہتا بس سادے گھر ہی ہیں یا فلیٹ۔
جب واپس لاہور پہنچے تو ائیر پورٹ سے گھر جاتے ہوئے لگا ہم پیرس آ گئے ہیں۔ جگمگ جگمگ کرتی ہوئی کھُلی سڑکیں۔ مجھے آج تک پاکستان کی معیشت کا یہ تضاد سمجھ میں نہیں آیا۔
جب ہم نے ڈالر نیپالی روپوں میں بدلوائے تو پتہ چلا کہ انکے روپے کی قیمت ہم سے تین گنا زیادہ ہے۔ ڈبیا کو اپنے روپے کی قدر کے بارے میں بتایا تو حیران ہو کر بولا۔
"پاکستان میں تو سب کچھ ہے۔ سمندر، زرخیز زمین، بلند و بالا برفانی چوٹیاں، جنگل، ریگستان۔ پھر تم لوگوں کا یہ حال کیوں ہے”۔ یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ بقول غالب:
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
جواب دیں