آہنی پردے کے پیچھے

گزشتہ چند برسوں میں کمیونسٹ بلاک سے نکلے چند ملکوں  میں جانے کا اتفاق ہوا۔ سب سے پہلا تو اُزبکستان تھا۔ اگرچہ وہاں گئے تو کئی سال ہو گئے مگر میں نے سوچا کہ اُسکا ذکر بھی کر دوں۔

تا شقند کا نام اُس سے پہلے اِس لیے سُنا ہوا تھا کہ ہندو پاکستان جنگ کے بعد 1966ء میں وہیں دونوں ملکوں نے امن کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ اور دوسرے اس وجہ سے کہ جہاں بھی کہیں مختلف ممالک کے اوقات کا ذکر آئے۔ تاشقند اور اسلام آباد کا وقت ایک ہی لکھا دیکھا۔ یہ پاکستان سے باہر واحد ملک ہے جن کا اور ہمارا وقت ایک ہی ہے۔ میں گھڑی کے وقت کی بات کر رہی ہوں۔ ویسے تو آج کل ہمارا ذرا بُرا وقت ہی چل رہا ہے۔

ثمر قند اور بخارا کا ذکر کس نے پُرانی داستانوں میں نہیں پڑھا۔ ہمارے لئے تو کُچھ پراسرار اور کچھ متبرک کہانیوں کا یہ دونوں شہر حصہ رہے ہیں۔

قدیم اسلامی تہذیب اور روس کی حکومت کے لمبے دور کے آثار قدم بہ قدم ملتے ہیں۔ یہ شہر ڈھائی ہزار سال سے شاہراہ ریشم پر آباد ہیں۔ بخارا اسلامی تصوف کا مرکز رہ چکا ہے۔ مقبروں، مدرسوں اور مساجد کو بہت محنت اور کاریگری سے اپنی پہلی حالت میں بحال کیا گیا ہے۔ تعمیر کا انداز ملتان کے مقابر کی یاد دلاتا ہے۔

پُرانی عمارتوں پر اب بھی فارسی شعر لکھے نظر آتے ہیں جنہیں اب یہاں کوئی نہیں پڑھ سکتا۔

ثمر قند کا مصالحوں کا بازار بھی دلچسپ جگہ تھی اور وہاں کے خاص ثمر قندی پراٹھے۔

بخارا میں ایک قدیم مدرسے کے اندر ثقافتی شو دیکھا۔ سیاحوں کو لُبھانے کے لئے وہاں پورا بازار لگا ہوا تھا۔ لڑکیوں کا سیدھا سادہ رقص بھی پروگرام میں شامل تھا۔

یہاں تو آپ کسی مدرسے کے صحن میں ایسا کرنے کا سوچیں بھی تو آپ کے قتل کا فتویٰ آ جائے گا۔

اُزبکستان کے بعد دوسرا ملک سربیا تھا جو یوگو سلاویہ کا حصہ تھا۔ بلگراڈ یہاں کا دارلخلافہ اور بڑا شہر ہے یہاں چونکہ گرمی زیادہ تھی تو خنک موسم کی تلاش میں ہم یہاں کے پہاڑی شہر Zlatibor چلے گئے ۔ انٹرنیٹ کے ذریعے وہیں کے ایک مقامی انگریزی بولنے والے ڈرائیور سے ہمارا رابطہ تھا۔

بلگراڈ آ کر ہمارے ہوٹل سے ہمیں لے گیا ۔ مارکو Zlatibor  کا ہی رہنے والا تھا ۔ اس نے وہ سارا علاقہ ہمیں خوب گھُمایا پھرایا۔ اپنی بیوی سے ملوایا جو ایک سکول میں ٹیچر تھی ۔ ہمارے ہوٹل کے قریب ہی اسکی بہن کا Massage Parlour  تھا تو وہاں جانا بنتا ہی تھا۔

سربیا آہستہ آہستہ سیاحت کے لئے بے حد مقبول ہو رہا ہے۔ اگرچہ ابھی بہت لوگ نہیں جانتے مگر دِل رُبا نظاروں سے بھرپور ہے۔ اور مشرقی یورپ کے باقی ملکوں سے کسی طرح کم نہیں۔سرسبز اونچی نیچی پہاڑیاں، شفاف جھیلیں، بَل کھاتے دریا، آبشاریں، اور وہاں کی ٹراؤٹ مچھلی، لاجواب۔

جب واپس آکر میں نے کسی محفل میں ذکر کیا تو سب نے مجھے بہت بُرا بھلا کہا کہ اتنی ظالم قوم کی میں تعریفیں کر رہی ہوں۔ انہوں نے بوسنیا والوں پر بے انتہا ظلم کئے۔

اور میں حیران ہو کر سوچتی ہوں کیا مارکو ظالم ہے یا اُس کی بیوی جس نے ابھی اپنے پہلے بچے کو جنم دینا ہے۔ ایسے ہی سیدھے سادے لوگ اپنے بچوں کےساتھ گھوم پھر رہے تھے جیسے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ پھر یہ جنگ کا فلسفہ کیا ہے۔ بھَلے اچھے انسان ایسے ظالم اور بے درد کیسے ہو جاتے ہیں۔ ۔۔۔؟ کیا یہ ہابیل اور قابیل کی لڑائی کبھی ختم نہیں ہو گی ۔ کیا یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ ان گنت سوال جن کا کوئی جواب نہیں۔

اب دیکھئے سربیا کے بعد ہم کہاں گئے ۔ یوکرین۔ سَفر پر Covid  کی وجہ سے لگنے والی  پابندیاں نئی نئی ختم ہو رہی تھیں۔ کافی عرصے سے پاؤں  کے تِل میں کھُجلی ہو رہی تھی۔ یوکرین ان ملکوں میں سے تھا جنہوں نے سیاحت پر سے پابندیاں جلدی ختم کر دیں تو ہم نے وہیں کا رُخ کیا۔ آتے جاتے Covid کے ٹیسٹ کروا کروا کر کتنا بُرا حال ہوا۔ یہ الگ کہانی ہے۔ مگر شوق کا تو کوئی مول نہیں ۔ سوجانے کے لئے جو شرائط تھیں سب پوری کرنی ہی تھیں۔

انکا دارلخلافہ Kiev مجھے بہت ہی خوبصورت لگا۔ شہر کے بیچوں بیچ سے دریا گزرتا ہے۔ پہاڑیاں، جنگل، باغات، بَل کھاتے راستے، مگر جونہی شہر سے باہر نکلو بس غریبی اور جھونپڑ  پٹی، گزری جنگوں کے آثار، ویسے ہی سیدھے سادے لوگ، ایک خاص گلی جس کے فرش پر پتھر لگے ہیں فنکاروں اور دستکاروں کی گلی کہلاتی ہے۔ مصور بیٹھے تصویریں بنا رہے ہیں۔ خواتین دستکاریاں بیچ رہی ہیں۔ درختوں کے نیچے کرسیاں لگا کر چھوٹے چھوٹے  کیفے بنے ہیں۔ اُس منظر کا تصور کرتی ہوں تو دل کانپ جاتا ہے۔ کیسے اب جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں۔ جانے کتنے لوگ بے گھر ہو گئے۔ کتنے بچے یتیم اور کتنی عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ ابھی تو بیچارے مشکل سے ذرا سنبھل ہی رہے تھے کہ جنگ کی ڈائن نے پھر وہاں پنجے گاڑ دئیے۔ کوئی غیروں کی لگائی ہوئی آگ میں جَلتا ہے اور کہیں اپنوں کے دئیے ہوئے زخم ہی نہیں بھر پاتے۔ سیاستدان اپنے مفاد کے لئے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں اور ظلم کی چکی میں کون پیسا جاتا ہے، بیچارے عوام۔

خیر نہ حالات کے دھارے ہمارے بَس میں ہیں اور نہ انکا کوئی علاج۔ ویسے سربیا اور یوکرین کی لڑکیاں اتنی حسین تھیں کہ کیا بتاؤں۔ سڑک پر چلتی ہر لڑکی ماڈل لگتی تھی۔ Kiev کے مضافات میں ہم ایک ہوٹل میں تھے۔ جو شاید امیر طبقے کی شادیوں کے لئے بہت مقبول تھا۔ ہفتے اور اتوار کے دوران ہم نے چھ شادیاں دیکھیں کیونکہ سب کچھ کھُلے لان میں ہی ہو رہا تھا۔

دلہنیں ایسی کہ ہاتھ لگانے سے میلی ہوں۔ لمبے قد، پتلی کمر، شانوں تک لہراتے سنہرے بال اور بیچارے مرد بالکل ہی پیدل۔ اکثر تو اپنی بیگمات سے قد میں چھوٹے ہی تھے۔ کچھ موٹے اور آدھے گنجے بھی۔ مگر گاڑیاں بہت شاندار تھیں تو شاید پورا پیکج قبول ہو گیا۔

سربیا اور یوکرین ہیں تو یورپ ہی مگر ذرا غریبانہ یورپ۔ مغرب سے مشرق کی طرف چلتے آئیں تو بتدریج یورپ غریب تر ہوتا نظر آتا ہے۔ آپ کو کبھی کالا باغ سے حویلیاں جانے والی سڑک کو دیکھنے کا موقع ملے تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ یورپ سے کِسی طرح کم نہیں۔ بس دو تین سو سال پہلے کا غریب اور غیر ترقی یافتہ یورپ، قُدرت تو دینے میں بہت فیاص ہے۔ اب ہم اُن دولتوں کا کیسا استعمال کریں۔ یہ ہمارے اوپر منحصر ہے۔ یوکرین کو ہی دیکھ لیں۔ یورپ کا سب سے کرپٹ Corrupt  ملک ہے۔ تو دیکھئے حکمرانوں نے اپنے مُفاد کے لئے کیسے ملک کو جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں دے دیا۔

ہمیں روز شُکر کرنا چاہیے کہ کم از کم امن اور سلامتی سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ مگر پاکستانی قوم میں ایک تو وطن سے محبت کی بہت کمی ہے۔ پھر ہر وقت اپنے ملک پر شرمندہ رہتے ہیں۔ ناشُکری کی عادت پڑ گئی ہے۔ خبروں اور ٹی وی کا پاکستان تو کوئی اور ہی ہے۔ روز مَرّہ جہاں جائیں گاڑیاں رواں دواں ہیں ۔سڑکوں پر جوتیاں چٹخانے والے آج موٹر سائیکلیں بھگاتے پھِرتے ہیں۔ کبھی کسی کے گھر میں ایک سائیکل ہونا بھی بہت بڑی سواری گنی جاتی تھی۔ اب ہر گھر میں موٹر سائیکل، ٹی وی، فریج ، کولر اور پنکھے ہونا تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔ موبائل فون تو ایسے ہیں جیسے بارش میں برس رہے ہیں۔ سڑک پر جھاڑو دینے والا ہو یا گٹر صاف کرنے والا۔ فون ہر ایک کے ہاتھ میں ہے۔ مگر شکر پھر بھی نہیں ہے۔ چوکیدار سے لے کر وزیراعظم تک کوئی بھی اپنے کام میں سو فیصد ایماندار نہیں ہے مگر چاہتے ہیں کہ جائز ناجائز جیسے بھی۔ اپنی سب خواہشات پوری کر لیں۔ پیسہ کما لیں۔

ارے۔ ارے۔ بات بہت سنجیدہ ہو گئی اور بڑی دور نکل گئی۔ واپس اپنی سیاحت کی طرف آتے ہیں۔

آج کل ڈالر بہت مہنگا ہو گیا ہے اور ویزوں وغیرہ کی بھی مشکل ہے۔ تو ہمارے ہاں یورپ سے ہٹ کر وسطی ایشیا کے ممالک کی طرف جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ آذربائیجان ان میں سرِ فہرست ہے ۔ تو ہم نے بھی سوچا ۔

ع چلو تُم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی ۔۔۔۔۔

پھر لاہور سے باکو کی سیدھی فلائٹ بھی چل رہی ہے۔ وہاں دیکھنے کو اِتنا کچھ ہے نہیں تو ہم نے اُس کے ساتھ جارجیا Georgia کو شامل کر لیا۔ دونوں ملک پڑوسی ہیں۔ سوویٹ یونین سے نکلے ہیں ۔ آذر بائیجان مسلمان ملک ہے اور جارجیا عیسائی۔

Covid  سے قبل یہی پروگرام میں بنا چکی تھی۔ ٹکٹ بھی آ گئے تھے۔ دونوں جگہ رہائش کے ساتھ ساتھ انگریزی بولنے والے ڈرائیور اور گاڑی کا انتظام بھی ہو چکا تھا۔ 25 مارچ کو ہماری فلائٹ تھی۔ 22 تاریخ کو لاک ڈاؤن ہو گیا۔ یہ بھی بھَلا ہوا کہ ابھی یہیں تھے۔ کہیں پردیس میں یہ آفت نہیں آئی۔

وہی سارا پروگرام اب میں نے واپس بحال کیا۔خیال تو یہ تھا کہ آذر بائیجان پہلے جائیں مگر ہمارے جارجیا والے ڈرائیور نے کہا کہ اُن دنوں میں وہ فارغ نہیں ہوگا۔ کچھ سیاح کینیڈا سے آ رہے ہیں جنہوں نے اُسے پورے ایک ماہ کے لیے Book کیا ہوا ہے۔

تین سال سے ہمارا رابطہ قائم تھا اور میں چاہتی تھی کہ اُسی کے ساتھ ہمارا سفر طے ہو تو ہم نے پہلے جارجیا جانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں ہمارے ڈرائیور اور گائیڈ کا نام تو بہت لمبا سا تھا۔ مگر اُس نے کہا کہ سب اسے "کاخا” کہتے ہیں۔

بے حد تیز طرار، جوشیلا اور خوش مزاج۔ 

برستی بارش میں رات کے گیارہ بجے ہم وہاں پہنچے۔ پاکستانیوں کے لیے Visa on Arrival  تھا تو ذرا سا ڈر بھی تھا۔ مگر کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

” میں تین سال سے انتظار کر رہا ہوں کہ تُم لوگوں کو اپنا خوبصورت ملک دکھاؤں ” کاخا گاڑی میں بیٹھ کر بولا۔

اور سچ مُچ  اُس نے اپنے ملک کا کونہ کونہ ہمیں دکھا دیا۔ Tbilisi  ۔ وہاں کا دارلخلافہ یورپ کے شہروں کی طرح دریا کے کنارے آباد پرانا شہر کافی دلچسپ اور خوبصورت ہے۔

پھر کئی چھوٹے بڑے شہروں سے گزرتا وہ ہمیں Racha لے گیا۔ اِ س علاقے کو یہ جارجیا کا سوئٹزر لینڈ کہتے ہیں۔ یہاں ہمارا قیام ایک انگور کے باغوں سے گھِرے ہوئے گھر میں تھا۔ جسے ایک خاندان گیسٹ ہاؤس کی طرح چلا رہا ہے۔ ساس باورچی خانہ سنبھالتی ہے۔ بہو باقی انتظام دیکھتی ہے ۔بیٹا وہیں انگور سے شراب یعنی Wine  بناتا ہے۔ جارجیا کی وائن کافی مقبول ہے ۔ مگر ہمارے لئے تو یہ خانہ خالی ہی تھا۔

کاخا اپنے وطن سے بے حد محبت کرتا ہے اور بڑے فخر سے ہمیں ہر جگہ دکھاتا تھا۔ اُسے قدرتی نظاروں سے ہماری محبت کا اندازہ ہو گیا تھا تو ہر جگہ رُک کر دریا، جھیلیں، آبشار، جنگل، برف پوش چوٹیاں، مرغزار سب کچھ دکھاتا جاتا تھا۔

کھانے کے لیے بھی اُس نے مخصوس جگہوں کا انتخاب کیا ہوا تھا۔ زبان کی بےحد مشکل ہے تو ہمارا تو ترجمان بھی وہی تھا۔ بہت لگن سے سمجھا کر ہمارے ذوق کے مطابق کھانے آرڈر کرتا تھا۔کھانے مزیدار تھے۔ انکی خاص ڈِش کَچا پوری Kachapuri  تو ہم نے خوب کھائی۔ ویسے تو زیادہ شہرت انکی Khlnkali  کی ہے ۔ یہ Dumplings ہوتے ہیں مگر ہمیں تو کچھ خاص نہیں بھائے۔

جارجیا میں ہمارا آخری پڑاؤ باتومی Batumi  تھا۔ یہ ترک بارڈر کے بہت قریب ہے ۔ بحرِ اسود یعنی Black Sea  پر ایک بندرگاہ بھی ہے اور سیاحوں میں مقبول شہر بھی۔ اِسکی سَج دھَج باقی جارجیا سے الگ ہے۔ کافی حد تک ایک یورپین شہر لگتا ہے۔ ہمیں بھی بہت پسند آیا۔

جارجیا کے بعد آذر بائیجان جانے کا فیصلہ یوں تو ٹھیک تھا۔ مگر جارجیا کے نہ ختم ہونے والے نظاروں اور سبزہ زاروں کی عادت سی ہو گئی تھی ۔ ویسے باکو کے شہر نے بالکل مایوس نہیں کیا۔ اور ائیر پورٹ کے تو کیا کہنے۔ بہت ہی خوبصورت اور انوکھا ڈیزائن، شہر بھی صاف ستھرا ہے۔ ائیر پورٹ سے شہر جاتے جاتے تیل کے بہت سے کنویں نظر آئے۔ اِس ملک کو آزادی 1991ء میں ملی مگر اتنی قلیل مدت میں ہی انہوں نے ترقی کی کئی منازل طے کر لی ہیں۔ باکو شہر کو روس نے بس تیل نکالنے اور اسکے صاف کرنے کے کارخانوں کے لئے مخصوص کر رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے سارا شہر دھوئیں سے کالا ہو چکا تھا۔ اب اُسے خوب صاف کر کے دُبئی کی طرز پر نئی نئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں۔

باکو کا سِٹی سنٹر جو نظامی باغ بھی کہلاتا ہے بے حد حسین اور نیا نویلا ہے۔ بے شمار فوارے آپکا استقبال کرتے ہیں۔ بہت پر رونق علاقہ ہے۔ یہ باغ اور سڑک بارھویں صدی کے مشہور فارسی شاعر نظامی گنجوی کےنام سے منسوب ہیں۔ نظامی کا بہت بڑا مجسمہ بھی یہیں ایک بڑے چبوترے پر نصب ہے۔

آذری زبان اور اُردور میں فارسی اور ترکی کے بہت سے الفاظ مشترک ہیں۔ جب ہم آپس میں باتیں کرتے تو ہمارا ڈرائیور رؤف چونک کر کہتا۔ یہ آپ نے کیا کہا۔ ہم بھی یہ لفظ بولتے ہیں۔

رؤف سے جب پہلے میرا رابطہ ہو ا تو یہ سیاحوں کے لئے گاڑی چلانے کا ہی کام کرتا تھا۔ مگر Covid  میں اُس نے اپنا ایک چھوٹا سا Take Away  ریستوران کھول لیا جو خوب چل نکلا۔ تو اُس نے سیاحوں والا کام چھوڑ دیا۔

مگر جب میں نے رابطہ کیا تو کہنے لگا تم لوگوں سے میں نے وعدہ کیا تھا تو اب اُس کو نبھاؤں گا۔ اپنا کام چھوڑ کر ایک ہفتہ وہ ہمیں گھُماتا پھراتا رہا۔

باکو کا پُرانا شہر بہت دلچسپ ہے۔ اوپر نیچے جاتی گلیاں، جھروکے اور چوبارے۔ لیکن شہر سے باہر نکلے تو چٹیل میدان۔ ذرا دِل بُجھ سا گیا۔ مگر شام سے پہلے پھر ہرا بھرا علاقہ اور گھنے جنگل شروع ہو گئے۔

اب ہماری منزل تو قبالہ اور شاہ داغ تھی۔ مگر رؤف نے ان سے پہلے ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں کی کاٹیج Cottage  میں ہمارے رہنے کا انتظام کیا تھا۔ باہر کھُلا باغ تھا اور اسکے کنارے شفاف پانی کی ایک بل کھاتی نّدی، باغ میں ایک چھت کے نیچے کھانے کی میز اور کرسیاں لگی تھیں۔ باربی کیو کا انتظام بھی تھا۔

رؤف نے بتایا کہ وہ امریکہ سے Chef کا کورس کر کے آیا ہے ۔ وہیں اُس نے انگریزی بھی سیکھی۔ دو دِن اس نے ہمیں مزیدار کھانے پکا کر کھِلائے۔ آذری پُلاؤ، کوئلوں پر بھونی مزیدار مچھلی اور سماوار میں بنی چائے۔ چائے تو پھیکی ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ یہاں مزیدار مُربّہ پیش کیا جاتا ہے۔

وہیں سے اُس نے ہمیں وہ سارا خوبصورت علاقہ دکھایا۔ سر سبز، پہاڑوں میں گھری نوہِر جھیل۔ سات آبشاریں قبالہ کا سِٹی سنٹر، یہ شہر درا صل ایک  Ski Resort  ہے۔

اتنا عرصہ مذہب پر پابندیاں ہونے کے باوجود آذر بائیجان کا اِسلامی تشخص اب بہت نمایاں ہے۔ سلام کا رواج عام ہے۔

مسجدیں صاف ستھری اور خوبصورت ہیں۔ اذان سنائی دیتی ہے۔ پاکستان کا نام سن کر بے حد خوش ہوتے ہیں۔ جگہ جگہ آذربائیجان کے جھنڈے کے ساتھ ترکی اور پاکستان کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں۔

"یہ کیوں۔۔۔۔؟ ” میں نے حیران ہو کر رؤف سے پوچھا۔اس لئے کہ آرمینیا سے ہماری جنگ میں پاکستان نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ اپنی فوج بھی یہاں ہمارے ساتھ لڑنے کے لیے بھیجی تو یہ شکریےکے طور پر ہے۔

آہنی پردے Iron Curtain سے نکلے یہ تمام علاقے ایک زمانے میں تو باقی دنیا کے لئے خاردار تاروں کے پیچھے ایک پر اسرار خوفناک کہانی کی طرح تھے۔ مگر اب یہ ایک کھُلی کتاب کی طرح سب کے سامنے ہیں۔ کسی حد تک ملتے جُلتے مگر مختلف بھی۔ سب نے اپنا اپنا ایک قومی تشخص اپنا لیا ہے۔ سب اپنی آزادی کو محسوس کرتے ہیں اوراُس پر فخر کرتے ہیں۔ سوائے بیچارے یوکرین کے۔ جس کی قسمت میں ابھی اور دُکھ سہنے لکھے ہیں۔ جانے کب تک۔۔۔۔۔

One response to “آہنی پردے کے پیچھے”

  1. Enjoyed the article ; lovely description of all the places travelled and thought provoking statements nicely added to the storyline

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے