مَملِکۃُ المَغربیۃ

امریکہ کے فوراً بعد ہی مراکش یعنی  Morocco جانے کا موقع ملا۔ میری سمجھ میں یہ کبھی نہیں آیا کہ ہم اسے مراکش کیوں کہتے ہیں۔ جبکہ مراکش تو صرف وہاں کا ایک شہر ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو "مَملِکۃالمَغربیۃ” کہتے ہیں اور یہی ان کا سرکاری نام ہے۔

جب مسلمان پے در پے فتوحات کرتے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے تو سعودی عرب سے مغرب میں یہ مسلمانوں کی حکومت کی آخری حد تھی۔ شاید اسی لئے اسے یہ نام دے دیا گیا۔ مگر مراکش اور Morocco کی وجہ تسمیہ کم از کم مجھے معلوم نہیں۔

حال ہی میں وہاں زلزلے اور سیلاب کی تباہی کی خبریں سنیں تو دِل دِہل گیا۔ اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر حِصّے کو ایسی تباہی سے بچا کر رکھے۔آمین!

گزشتہ برس اِنہی دنوں میں ہم وہاں تھے۔ بیحد خوبصورت سفر کی ساری یادیں تازہ ہونے لگیں۔

کاسا بلانکا Casa Blanca  میں امیگریشن سے گزرنے کے بعد بھی ایک لمبی قطار تھی۔ لمبے قد کے ایک لحیم شحیم صاحب سرکاری وردی میں ملبوس سب کے سامان کُھلوا رہے تھے۔ جن میں زیادہ تر سفید فام سَیّاح ہی تھے۔

"گوروں کا یہ حال ہے تو ہمارے شاید جوتے اور کپڑے بھی اُتروائیں گے۔” میں نے نعیمہ سے کہا۔

ہم قطار میں ابھی بہت پیچھے تھے کہ اُن کی نظر ہمارے ہاتھ میں پکڑے پاسپورٹ پر پڑی۔ 

"پاکستان ۔۔۔۔۔؟” انہوں نے اونچی آواز سے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔

ہم نے "جی ہاں” کہہ کر سر ہلا دئیے۔

"آپ جا سکتے ہیں۔” انہوں نے مسکرا کر اشارہ کیا۔

ہم اطمینان کا ایک سانس لے کر حیرت اور خوشی کے مِلے جلے احساس کے ساتھ باہر نکل آئے۔

سارے سفر کے دوران یہ خوش کُن انکشاف ہوا کہ مراکش ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جہاں پاکستان کا نام آتے ہی لوگوں کے چہروں پر ایک چمکدار مسکراہٹ آجاتی ہے۔ جہاں بھی پاکستان کا نام لیا۔ بہت محبت سے جواب ملا۔ پہلے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے پھر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنساتے یَک جہتی کا اظہار کرتے۔ پھر مسکرا کر کہتے، مرحبا، مرحبا، برادر مسلم۔

تاریخ بتاتی ہے کہ 1952ء میں جب مراکش فرانس کے تسلُّط سے نکلنے کے لئے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ پاکستان نے اس میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔

اُس وقت کے مراکش کے اقوام متحدہ کے وفد کے قائد جناب احمد بالا فریج اجلاس میں اپنے ملک کی آزادی کے حق میں تقریر کرنا چاہتے تھے۔ مگر فرانس نے اُنہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ مراکش ابھی فرانس کے زیر نگیں ہے اور یہ اُسکے شہری ہیں۔اس لئے اُنہیں یہ حق نہیں ہے۔

ہمارے مایہ ناز وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان نے جب ایک برادر مسلم ملک کے ساتھ ہونے والی اِس زیادتی کو دیکھا تو راتوں رات پاکستانی سفارت خانہ کُھلوایا اور احمد بالا فریج کو پاکستانی پاسپورٹ بنوا کر پاکستان کا شہری بنادیا۔

اگلے روزفرانس کے غم و غصّے کے باوجود انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے ایک مُشیر کے طور پر شرکت کی اور اپنے ملک کی آزادی کے حق میں دھواں دھار تقریر کی۔جس سے انکی جنگِ آزادی کو ایک نئی طاقت ملی۔

جب مراکش فرانس سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تو 1956ء میں وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے اپنا وہ پاکستانی پاسپورٹ فریم کر کے اپنے دفتر میں لگوایا اور بہت فخر سے اپنے مہمانوں کو دِکھاتے تھے۔

یہ کہانی ہمیں تاریخ میں نہیں پڑھائی جاتی  کیونکہ ہمارے ہاں عقیدے کے ساتھ حبُّ الوطنی بھی مشکوک ہو جاتی ہے اور اب تو پاکستان تنگ نظری اور عدم برداشت کی ایسی گہری کھائی میں گِرتا جار ہا ہے کہ نکلنا ناممکن نظر آتا ہے اور ستم در ستم یہ کہ حکومتیں اور مذہبی لیڈر خود نفرت کی اس آگ کو بھڑکانے میں مدد کرتے ہیں تاکہ اُنکے مقاصد پورے ہوتے رہیں۔

ارے بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ توشاید اِسی لئے مراکش کے لوگوں کے دل میں پاکستان کے لئے ایک خاص محبت ہے۔

کاسا بلانکا Casa Blanca  یہاں کا سب سے مشہور شہر ہے۔ ہالی وُڈ کی اِسی نام کی فلم کی وجہ سے یہ نام دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ یہاں Rick’s Café ابھی تک موجود ہے۔ جس کے مالک Rick  کا کردار مشہور اداکار ہمفری بوگارٹ Humphary Bogart  نے ادا کیا تھا۔ اِنگرِڈ برگ مین Ingrid Bergman کی خوبصورتی اور معصوم ادائیں دیکھنے والوں کے دل موہ لیتی ہیں۔ یہ فلم 1942ء میں بنی مگر آج بھی مقبول ہے اور ہالی وُڈ کی ہمیشہ زندہ رہنے والی فلموں میں سے ایک ہے۔

کاسا بلانکا سمندر کے کناے آباد ایک خوبصورت شہر ہے۔ یہاں کی معروف عمارت شاہ حسن دوئم مسجد ہے۔ اسے سمندر کے کنارے اس طرح بنایا گیا ہے کہ اُسی سمت سے دیکھنے پر محسوس ہوتا ہے پانی کے اوپر ہی کھڑی ہے۔ یہ افریقہ کی سب سے بڑی اور دنیا کی ساتویں بڑی مسجد ہے۔ نہایت منفرد اور خوبصورت ڈیزائن۔ اندر دیواروں، فرش اور چھت کے اوپر بیحد حسین نقش و نگار۔ یہاں کے کاریگروں کی صنّاعی کی داد دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کا چوکور مینار دور سے دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی مسجدوں میں ہر جگہ مینار چوکور ہی دیکھے۔ 

کہتے ہیں کہ بنو اُمیّہ کے دور میں مسجد اور قلعہ ایک ہی عمارت ہوتی تھی۔ اس لئے اُس کے مینار چوکور بنائے جاتے تھے۔ ابتدائی اسلامی دور میں شمالی افریقہ کے ممالک میں ایسی ہی مساجد بنائی جاتی تھیں۔ تو یہ روایت وہاں ابھی تک برقرار ہے۔

 مراکش کا ساحل سمندر بے حد طویل ہے تو ہمارے سفر کا آغاز اِسی کے کنارے کنارے ہوا۔

رباط، یہاں کا دارالخلافہ ، صاف ستھرا، سر سبز اور منظم شہر۔

پھر Tangier  پہنچے۔ اسے یہاں عربی میں طنجہ لکھا جاتا ہے۔ ہمارا قیام ہر شہر میں کسی ریاض Riyad میں تھا۔ کیونکہ اگر آپ کو ایک ملک کو محسوس کرنا ہے تو کسی مقامی جگہ ٹھہریں۔ بڑے ہوٹل تو ہر جگہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ 

ریاض ہمیشہ پرانے شہر میں ہی ہوتے ہیں۔ جِن کو یہاں مدینہ کہا جاتا ہے۔ ریاض کا مطلب ہے گھر جس کے اندر باغیچہ ہو۔ اب یہ سمجھ لیں کہ ہماری پُرانی حویلیاں جن کے اندر صحن ہے۔ صحن میں فوارہ یا تالاب اور چند پودے۔ چاروں طرف برآمدے، راہداریاں اوپر کھُلی چھت۔ باہر سے قدیم مگر اندر ہر جدید سہولت مہیّا۔ پرانی حویلیوں کو گیسٹ ہاؤس کی طرح بنا دیا گیا ہے۔

سُن رکھا تھا Tangier میں ابنِ بطوطہ کی قبر ہے۔ مراکش کا عظیم سَیاح جس نے اُس زمانے میں اتنے طویل سفر کئے۔

صبح اُٹھ کر اپنے ریاض کے لوگوں سے پوچھا۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ یہاں سّیاحوں کے بہت سے گروہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک دُبلا پتلا بوڑھا آدمی صحن میں ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ کوئی گائیڈ تھا جو اپنے گروپ کا انتظار کر رہا تھا۔ 

ہماری آوازیں اُس کے کان تک پہنچیں تو اُٹھ کر آ گیا۔ اُس نے ہم سے بات چیت کے بعد باہر نکل کر ایک اور بوڑھے کو بلایا جو شاید خود کبھی گائیڈ رہ چُکا ہو گا۔ کافی خستہ حال لگ رہا تھا۔

"یہ آپ لوگوں کو ابنِ بطوطہ کے مقبرے تک لے جائے گا۔ یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس کو کچھ دے دیجئے گا۔”

اب ہم پرانے محلّے کی گلیاں گلیاں چلتے۔ کبھی اوپر چڑھتے کبھی نیچے اُترتے آخر وہاں پہنچ گئے۔ چھوٹی سی نامعلوم گلی میں ایک سفیدی کئے کمرے کے اندر وہ عظیم سّیاح دفن ہے۔ باہر کچھ پھول پودے گملوں میں لگے ہوئے ہیں۔ بیرونی دیوار پر ایک نقشے میں وہ تمام مقامات دکھائے گئے ہیں جہاں تک ابنِ بطوطہ پہنچا۔ اِس سَیّاحی کا کیا نشہ ہے یہ ہم جیسے خوب جانتے ہیں۔

اِسی شہر میں غریبانہ گَلیوں کے بعد اُمرا کے بڑے بڑے عَالیشان گھر بھی دیکھے۔ سپین سامنے ہی نظر آتا ہے۔ روزانہ دو کشتیاں مسافروں کو لاتی اور لے جاتی ہیں۔ یہیں بحیرہ روم Mediterranean Sea  اور بحرِ اوقیانوس Atlantic Ocean  ملتے ہیں۔ مجھے تو سب سے خوبصورت یہی شہر لگا۔

طَنجہ کے بعد ہمارا رُخ ساحل سمندر سے ہَٹ کر اندرونی علاقوں کی طرف ہوا۔ جن ملکوں میں  زبان اور ذرائع آمدو رفت کی مشکل ہو، وہاں ہم مکمل سفر کے لئے ایک گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام کر لیتے ہیں جو انگریزی بولتا ہو۔ ایک طرح سے وہ ہمارا گائیڈ بھی بن جاتا ہے۔

یہاں بھی ایک مقامی نوجوان ” ولید” ہمارا ڈرائیورتھا۔ بیحد ہَنس مُکھ اور سمجھدار۔ اپنا نام Oualid لکھتا تھا۔ فرانسیسی زبان میں Ou ہمارے حرف”و” یا انگریزی حرف “w” کی آواز نکالتا ہے۔

مراکش اپنی طرز کا ایک انوکھا ملک ہے۔ عرب، فرانسیسی، بربر اور پرتگالی تہذیب کا مجموعہ۔ غُربت نظر آتی ہے۔ پُرانی گلیوں کے کونوں کُھدروں میں کوڑا کرکٹ بھی نظر آتا ہے۔ مگر اس کے باوجود لوگ خوش باش اور مطمئن ہیں۔ اور اپنے ملک سے بےحد محبت کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کو اس سے سبق لینا چاہیے۔

طنجہ کے بعد شف شاون پہنچے۔ Chefchaouen جسے نیلا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ شہر کیا ہے۔ پہاڑوں میں گھِرا ایک چھوٹا سا قصبہ ہی ہے۔ اسکی پیچدار گلیوں میں تو پیدل ہی گھومنا ہوتا ہے۔ 

پھر فیض جو یہاں کی تہذیب و ثقافت کا علمبردار ہے۔ فیض کا پرانا شہر لاہور کے اندرون شہر سے بہت مِلتا جلتا ہے۔ کہتے ہیں دونوں Sister Cities  ہیں۔خالد نام کے ایک مقامی گائیڈ نے پیدل گھوم پھِر کر ہمیں سارا مدینہ دکھایا۔ فیض یہاں کی صنعت و حرفت کا مرکز ہے۔ اگر مقامی دستکاری کا کوئی نمونہ خریدنا ہے تو یہی جگہ ہے۔ قالین، چمڑے اور لکڑی کا سامان۔ پیتل، چاندی اور مقامی مِٹی سے بنے برتن اور سجاوٹ کا سامان۔ مدینہ کے اندر بالکل لاہور کی طرح ہر صنعت کی ایک الگ گلی ہے۔ بہت دلچسپ شہر ہے۔

اسکے بعد مراکش یہاں کا سب سے مصروف اور گنجان آباد شہر۔ یہاں سیاحوں کی مقبول ترین جگہ "باغ ماجورل” ہے۔ اِس کا نام اُس فرانسیسی مصور کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے چالیس برس کے عرصے میں اس دلکش باغ کو آباد کیا۔ 1980ء میں مشہور فرانسیسی ڈیزائنر Yves Saint Laurent (YSL)   نے اسے خرید لیا۔ یہیں رہائش اختیار کی اور یہیں دفن ہوا۔ بارہ ایکڑ پر  مشتمل یہ باغ مراکش کے گنجان آباد شہر میں ایک نخلستان کی طرح ہے۔

پورے ملک میں اسلامی فَنِ تعمیر اپنے عروج پر نظر آتا ہے ۔ درو دیوار کے نقش ونگار دل موہ لیتے ہیں۔ فرش سے لے کر چھتوں تک لکڑی اور ٹائل سے خوبصورت  دیدہ زیب ڈیزائن بہت ہی نفاست سے بنائے گئے ہیں اور یہاں کے کاریگروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

یہاں بادشاہت قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ اب حکومت موروثی بادشاہت اور منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ پر مشتمل ہے۔ مگر بادشاہ بہت بااختیار ہے۔

عوام اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرتے ہیں۔بادشاہ بھی اپنی رعایا کا بیحد خیال رکھتا ہے اور ان کی فلاح و بہبود اور تَرقّی کے لئے مختلف اقدام کرتا رہتا ہے۔

ولید ہر شہر میں ہمیں بادشاہ کے محلِ بہت خوش ہو کر دکھاتا تھا۔ 

"تمہیں غصہ نہیں آتا کہ بادشاہ نے ہر شہر میں اتنے بڑے بڑے محل بنا رکھے ہیں۔” نعیمہ نے ایک دن اُس سے پوچھا۔

"اس میں غصے کی کیا بات ہے۔” وہ حیران ہو کر بولا۔

"وہ کیوں محل نہ بنائے۔ آخر وہ بادشاہ ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو یہ سیاسی لیڈر تو ہمیں لوٹ کر کھا جائیں۔”

کاش ہمیں بھی کوئی ہمدرد، قابل اور عادل بادشاہ ہی مل جاتا۔ ہم جیسے جاہل ملک کے لئے شاید یہی بہتر رہتا۔ جمہوریت تو ہمیں راس نہیں آئی۔

7 responses to “مَملِکۃُ المَغربیۃ”

  1. نعیمہ آفتاب Avatar
    نعیمہ آفتاب

    بہت ہی عمدہ !ایسا لگا کہ دوبارہ مراکش پہنچ گۓ ہین۰ قیصرہ نے ملک کی گویا تصویر دکھا دی ۔

  2. It is always a treat to read one of ammi’s articles. Short yet entertaining and educational. A beautiful blend of a travelogue and a historical account with an insightful comment at the end as food for thought…And of course carrying forward the legacy of urdu

    1. Your description of Morocco is very thorough. I have always wanted to go and see Morocco. I wish one day that I can make it.

  3. Qaiera, as always, very well written description of your travel experience, So vivid that it reminded me of our visit of Morocco. i enjoyed reliving it. It is always nice when you ‘spray’ some nuggets of history. I enjoyed learning bout the contribution of Pakistan in the independence of Morocco look forward to reading about your next adentures..

  4. Wonderful! A welcome surprise to learn of Pakistan’s role in the birth of Morocco as an independent state

  5. captivating ! nicely done Qaisera ; you blend the adventures with history and information so effortlessly gliding from one to other ; and I learned that Ibne Batuta ‘s resting place is there ; look forward to travelling with you to other corners of the world !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے