-
”زبانِ یارِ مَن تُرکی”
جب ہم کوئٹہ میں رہتے تھے اور پیدل بازاروں میں گھوما کرتے تھے تو وہاں کے ایرانی ہوٹلوں کی موسیقی سنائی دیتی رہتی تھی۔ اکثر فارسی گانے لگے رہتے۔ اُسی وقت کہیں یہ مصرع بھی سنا اور ذہن کے کسی گوشتے میں اٹک کر رہ گیا۔ "زبانِ یارِ مَن تُرکی ومَن تُرکی نمی دانم۔” میرے…
-
بچوں کے لئے
تقریباً دو یا ڈھائی سال پہلے کی بات ہے۔ ابھی دنیا پرکووڈ کا راج قائم تھا۔ میں زیبا کے خانس پور کے گھر کے برآمدے میں بیٹھی اپنی کتاب ”ہمسفر” کی آخری نوک پلک درست کر رہی تھی۔ زیبا میری بیٹی ہے اور خانس پور نتھیا گلی اور ایوبیہ کے درمیان ایک چھوٹا سا پہاڑی…
-
نعیمہ اور میں
تو آئیے آج میں آپ کو بتائوں کہ اس داستان کا آغاز کہاں سے ہوا۔ سفر کی یہ کہانی قریباً پچیس تیس سال پہلے کس طرح شروع ہو ئی۔ نعیمہ کی اور میری دوستی اس سے بھی پرانی ہے۔ ہم تقریباً پڑوسی تھے۔ ہمارے بچوں کی عمریں بھی لگ بھگ ایک برابر تھیں۔ گھروں میں…