بچوں کے لئے

تقریباً دو یا ڈھائی سال پہلے کی بات ہے۔ ابھی دنیا پرکووڈ کا راج قائم تھا۔ میں زیبا کے خانس پور کے گھر کے برآمدے میں بیٹھی اپنی کتاب ”ہمسفر” کی آخری نوک پلک درست کر رہی تھی۔ زیبا میری بیٹی ہے اور خانس پور نتھیا گلی اور ایوبیہ کے درمیان ایک چھوٹا سا پہاڑی شہر ہے۔ یہاں سیاح نہیں آتے صرف وہی لوگ آتے ہیں جن کے یہاں گھر ہیں۔ مَکَش پوری کی چوٹی بادلوں اور سورج کے درمیان آنکھ مچولی کھیل رہی تھی۔ کبھی چھپ جاتی اور کبھی دھوپ سے روشن ہو جاتی۔ ہم کووڈ سے پناہ لینے کے لئے اس دلکش جگہ میں چھپے بیٹھے تھے۔ زیبا چائے اور پکوڑوں کی ٹرے کے ساتھ باہر آئی۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے پہاڑوں میں خوب بھوک لگتی ہے اور پکوڑوں کااصلی لطف اِن ٹھنڈی ہوائوں میں ہی آتا ہے۔

"آپ بچوں کے لئے ایسی کتابیں نہیں لکھ سکتیں۔۔۔؟”

زیبا نے ٹرے رکھتے ہوئے میرے ہاتھ میں پکڑے مسوّدے کو دیکھتے ہوئے کہا۔

بس یہیں سے بات شروع ہوئی۔ میں خود بھی ایک عرصے سے محسوس کر رہی تھی اور اکثر چھوٹے بچوں کی ماؤں سے یہ شکایت بھی سنتی تھی کہ بچوں کے پڑھنے کے لئے اُردو میں کوئی دلچسپ کتاب نہیں ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ بچے زیادہ تر انگریز ی ادب کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے ان کے بقول محبوب جنرل ضیاالحق کے تو اس قوم کو تباہ کرنے کے ہمارے اوپر اتنے احسانات ہیں کہ گنتی کرنا محال ہے مگر ایک عنایت ان کی خاص یہ ہے کہ ادب، مذہب اور تاریخ میں پہچان ہی ختم ہو گئی ہے۔ بچوں کے لئے بازار میں رکھی تمام کتابیں یا تو انگریزی کے تراجم ہیں یا خلفائے راشدین اورصحابہ کی زندگی کے حالات ہیں۔

ابھی شاید میں اس بارے میں کچھ سوچتی۔ مگر ہماری باتیں سننے کے بعد میرے آٹھ سالہ نواسے نے بہت سنجیدگی سے مجھ سے پوچھا۔

"آپ بچوں کی کتاب اسلام کے بارے میں لکھیں گی۔۔۔؟”

"آپ کو یہ خیال کیوں آیا۔۔۔؟”

میں نے حیران ہو کر پوچھا۔

"اس لئے کہ اُردو کی جو بھی کتاب ہو اُس میں اسلام کے بارے میں ہی لکھا ہوتا ہے۔”

اس کے اس سادہ سے جواب کو سن کر سمجھ میں نہیں آیا کہ ہنسوں یا روؤں۔

ہمارے ہاں جو حاکم آتا ہے۔ نصاب کے بخیے اُدھیڑنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

سکول یا استاد موجود ہیں یا نہیں۔ بس نیا نصاب آنے سے قوم کی قسمت بدل جائے گی۔ نتیجہ یہ کہ قوم جہالت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔

اس ساری بات چیت کے بعد اِس کتاب کی تخلیق کا عمل شروع ہوا۔ یہ تو نہیں اس چھوٹی سی کتاب سے کوئی بہت بڑی تبدیلی آجائے گی لیکن اگر بچے اسے دلچسپی سے پڑھ لیں گے تو کچھ نہ کچھ سیکھیں گے اور مجھے بے حد خوشی ملے گی۔

جب میں نے یہ ارادہ اپنی بے حد عزیز اور مہربان ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے سامنے ظاہر کیا تو انہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ ان خیالا ت اور جملوں کا کتاب بننے کاعمل ان ہی کا مرہونِ منت ہے۔

کتاب کی خوبصورت چھپائی کے ذمہ دار علی گڑھ پبلشرز کے اقبال ماجد صاحب ہیں۔ یہ ان ہی کی محنت ہے۔

کتاب بے حد خوبصورت کاغذوں پر رنگین تصویروں کے ساتھ چھاپی گئی ہے کہ بچے پڑھنے میں لطف محسوس کریں۔ میں ان دونوں کی تہہ دل سے مشکور ہوں۔

کتاب میرے ہاتھ میں ہے اور اپنے ویب سائٹ کے دوستوں کے لئے ہم اسے یہاں بھی پیش کر رہے ہیں۔ ارادہ یہ ہے کہ اسے ایک سلسلے کی صورت میں شائع کیا جائے۔

دوسری کتاب مالدیپ کے بارے میں ہوگی اورامید ہے کہ وہ بھی جلد تیار ہو جائے گی۔

کتاب آپ کو کیسی لگی اپنے رائے کااظہار ضرور کریں۔ مجھے انتظار رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے