”زبانِ یارِ مَن تُرکی”

جب ہم کوئٹہ میں رہتے تھے اور پیدل بازاروں میں گھوما کرتے تھے تو وہاں کے ایرانی ہوٹلوں کی موسیقی سنائی دیتی رہتی تھی۔ اکثر فارسی گانے لگے رہتے۔ اُسی وقت کہیں یہ مصرع بھی سنا اور ذہن کے کسی گوشتے میں اٹک کر رہ گیا۔

"زبانِ یارِ مَن تُرکی ومَن تُرکی نمی دانم۔”

میرے دوست کی زبان تُرکی کی ہے اورمجھے تُرکی زبان نہیں آتی۔

تُرکی جا کر یہ خیال کئی بار آیا کہ یہ مصرع سننے کے بعد یہاں آنے سے پہلے کچھ زبان کی شُد بُد حاصل کر ہی لینی چاہیے۔اس سال مئی میں پھر ترکی میں چھٹی کے چند دن گزارے۔ موجودہ سماجی، سیاسی اور معاشی حالات میں ہم پاکستانیوں کے لئے ترکی بہترین انتخاب ہے۔ ایک تو سیدھی فلائٹ، کہیں جہاز بدلنا نہیں پڑتا۔ پھر خوبصورت ملک، خوش مزاج اور خوش شکل لوگ، کھانا مزیداراور ہماری پسند کے مطابق۔ پھر دونوں ملکوں کی کرنسی لیرے لیرے بھی ساتھ ساتھ ہو رہی ہے تو اُتنی مہنگائی محسوس نہیں ہوتی جتنی مغربی ممالک میں کمر توڑتی ہے۔

ویسے تو یہ میرا ترکی کا پانچواں سفر تھا مگر پہلے زیادہ تر استنبول میں ہی رہے۔ اِس بار چند اور بڑے چھوٹے شہروں میں جانے کا بھی موقع ملا۔ استنبول میں تو پھر بھی گزارا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں زیادہ تر سیاح رہتے ہیں۔ مگر چھوٹے شہروں میں تو زبان کی بے حد مشکل ہے۔ بڑے ہوٹلوں کے عملے میں بھی صرف استقبالیہ کے لوگ بات چیت کر لیتے ہیں۔ صفائی یا دوسرے کام کے عملے کو ایک چھوٹی سی بات سمجھانا بھی ناممکن ہے۔

میری سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ اتاترک نے اس ملک کا رسم الخط بدل کر کونسا تیر مارا۔ اُس کا خیال تھا کہ لباس اور رسم الخط بدلنے سے میری قوم انگریز بن جائے گی۔ شکل و صورت اور لباس کے لحاظ سے تو انگریز لگتے ضرور ہیں۔ اگرچہ اب رفتہ رفتہ حجاب اوربرقعوں کی تعداد بھی بہت بڑھ رہی ہے۔ مگر انگریزی بولنے اور سمجھنے کے معاملے میں تو بس پیدل ہی ہیں۔

فارسی سے رومن رسم الخط بدلا تو حروفِ تہجی کم پڑ گئے۔ اب "c” کے نیچے ایک گھنڈی لگا کر اسے "ش” بنانا پڑا ہے۔”g” دو نقطے لگا کر "غ” کی آواز نکالتا ہے۔ زبان تو چوں چوں کامربّہ بن گئی۔ مقامی لوگ تو عادی ہوگئے مگر ہمارے جیسے باہر سے آنے والوں کے لئے مشکل دوگنی ہو گئی۔ بہت سے لفظ جانے پہچانے ہوتے ہیں مگر ان کے لکھنے کے طریقے کی وجہ سے پڑھے نہیں جاتے۔ نہ انگریز اسے پڑھ سکتے ہیں نہ ہم۔ کیونکہ اتاترک نے اکثر ہِجے ہی بدل دئیے ہیں۔

ایران میں کم از کم یہ آسانی تھی کہ فارسی میں لکھے بورڈ وغیرہ ہم پڑھ لیتے تھے۔ یہاں تو اب کہیں پرانے کتبے نظر آجائیں تو بات کچھ کچھ سمجھ آتی ہے۔

مشہورِ زمانہ "میدان تقسیم” کو سب سیاح ٹیکسم سکوائر (Taxim Square) کہتے ہیں۔ وہ تو میں نے ایک پرانا بورڈ دیکھا تو صحیح نام سمجھ میں آیا۔ اسی طرح مسجد کو (Cami) لکھتے ہیں۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ لفظ دراصل "جامع” ہے۔ فارسی میں ہر لفظ کو ذرا لِٹا کر بولتے ہیں ۔ جیسے نعیمہ کو ایران اور ترکی میں سب "نعیمے” پکارتے ہیں۔

مولانا روم جن کے ترک وارث بنے بیٹھے ہیں اور ان کے درویش رقص سے خوب کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اُن کا کلام یہ پڑھ ہی نہیں سکتے کیونکہ تمام تر فارسی میں ہے۔ ان کے کلام کا ترجمہ ترکی میں رومن رسم الخط کے ساتھ پڑھتے ہیں اور سَر دُھنتے ہیں۔

 یوں عام بات چیت میں کچھ الفاظ سمجھ آتے ہیں۔ ناشتے میں آملیٹ آرڈر کرنا تھا۔ میں چاہ رہی تھی کہ پیاز، ٹماٹر، پنیر وغیرہ نہ ڈالا جائے۔ بہت مشکل سے ویٹر کو بات سمجھائی تو اس نے یک دم مسکرا کر کہا۔

"اوہ، سادے آملیٹ۔”

یعنی سادہ آملیٹ۔ جو لکھا تو یوں ہی جاتا ہے مگر فارسی لہجے میں "سادے” بولا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ اور الفاظ بھی سمجھ آتے ہیں۔ جب کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہو تو "مرحبا”، آرڈر پورا ہو جائے تو "تمام”، بل منگوانا ہو تو "حساب”۔ نام زیادہ تر تو جانے پہچانے ہیں مگر کچھ بالکل مختلف بھی ہیں۔ اور تو اور گنتی سمجھانا بھی مشکل ہے۔ انگریزی گنتی کے نمبر بھی نہیں بولتے۔ بھلا ہو کیلکولیٹر (calculator) کا کہ لکھ کر دکھا دیتے ہیں۔

مگر زبان کی اس ساری مشکل کے باوجود میری تو دنیا میں پسندیدہ ترین جگہوں میں سے ہے۔ خاص کر استنبول ۔ سات پہاڑوں پر بسا، حسین نوکیلے مسجدوں کے میناروں سے سجا۔ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں اس کاشمار ہوتا ہے۔ اور اب بھی مجھے اُتنا ہی دلکش اور سحر انگیز لگتا ہے جتنا پہلی بار دیکھنے پر لگا تھا۔

2 responses to “”زبانِ یارِ مَن تُرکی””

  1. Loved the article about Turkey. Beautiful picture of the mosque. When you read this article you feel like going to Turkey right away! Hopefully one day soon and yes that verse of song about the language of my lover is Turkish is a childhood memory of mine too

    1. Thanks. I am so glad you enjoyed the article

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے