
پرانے وقتوں کا محاورہ ہے کہ دنیا میں تمام جھگڑے ان تین وجوہات کے باعث ہی ہوتے ہیں۔ زَر یعنی مال و دولت، زمین کی ملکیت، اور زَن یعنی صنفِ نازک یا عُرفِ عام میں عورت۔
اِس سال تُرکی کے سفر میں کچھ مختلف شہر دیکھنے کا موقع ملا۔ اِنہی میں "بُرسا” بھی تھا۔ بُرسا ترکی کے شمال مشرق میں ایک خاصا بڑا شہر ہے۔ یہ پچیس سو (2500) میٹر بلند "اُلدَخ” پہاڑ کے دامن میں واقع دریائے مرمرا کے قریب ہے۔ "اُلدخ” کے لُغوی معنی ترکی زبان میں عظیم یا بلند کے ہیں کیونکہ یہ یہاں کا بلند ترین پہاڑ ہے۔
بُرسا کو اس کے سرسبز پہاڑوں، گھاٹیوں اور باغوں کی وجہ سے، یا اولین عثمانیہ دور کے سبز ٹائلوں سے بنے مزاروں کی وجہ سے "سبز بُرسا” بھی کہا جاتا ہے۔ بُرسا کے قدرتی حسن کا لطف لینے کے لئے یہاں کی کیبل کار کاسفر ضروری ہے۔ عثمانیہ دور کی تاریخی عمارات اور مساجد بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کے مشہور اور مقبول اسکندریہ کباب کا بھی یہ گھر ہے۔
ہمارا ہوٹل پرانے شہر کے سٹی سنٹر سے جسے یہاں مرکز کہتے ہیں ذرا دور تھا۔ جو نہی ہوٹل میں داخل ہوئے وہیل چیئر پر ایک شخص نظر آیا۔ ریسیپشن پر اپنی بکنگ دیکھتے اور کمرے کی چابی لیتے لیتے دو اور جوان آدمی اسی طرح وہیل چیئر یعنی پہیوں والی خود کار کرسی پر نظر آئے۔ لفٹ میں اوپر جاتے جاتے ایک اور پر نظر پڑی۔ صبح ناشتے کے کمرے میں ایک جوان لڑکی بھی اسی صورتِ حال میں ناشتہ کر رہی تھی۔
"نعیمہ، یہ کیا کہانی ہے؟”
میں نے حیران ہو کر دھیمی آوا ز میں کہا۔
"یہ یہاں کوئی وہیل چیئر والوں کی کانفرنس ہو رہی ہے کیا؟”
نعیمہ ہنسنے لگی۔
"بھئی ایسا کبھی سنا تو نہیں۔”
"ہم جب "چشمے” کے ہوٹل میں تھے تو دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی کانفرنس ہو رہی تھی۔ کیا پتہ اِنکی بھی کوئی انجمن ہو۔”
ہم آپس میں یہ بات چیت کر کے خاموش ہو گئے مگر حیرت کم نہ ہوئی۔ نعیمہ ہوٹل کی گفٹ شاپ میں کچھ خریداری کر رہی تھی۔ اس کے مالک نے بات چیت کے دوران بتایا کہ ہوٹل کے بالکل ساتھ ایک بہت مشہور ہسپتال ہے تو یہ سب وہیل چیئر والے علاج کے لئے یہاں آتے ہیں اور اسی ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں۔
"چلو، یہ معمّہ تو حل ہوا۔”
میں نے سوچا۔
اگلے دن نیچے آنے کے لئے لفٹ تک پہنچی تو ایک نوجوان وہیل چیئر پر پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ لفٹ آئی تو میں نے اُسے اشارہ کیا کہ پہلے وہ چلا جائے۔ اُس نے وہیل چیئر ذرا آگے کر کے میرے لئے جگہ بنائی۔ میرے اندر جاتے جاتے کسی باہر سے گزرنے والے سے اُس نے کچھ بات چیت کی۔ مجھے سلام اور مرحبا کے الفاظ سمجھ میں آئے۔
"آپ تُرکی سے ہیں؟”
لفٹ چلنے کے بعد میں نے اس سے انگریزی میں سوال کیا۔
جواب میں بولا کہ, "ہاں۔”
پھر مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں کہاں سے آئی ہوں۔
جب میں نے کہا "پاکستان” تو اُس کا چہرہ ایک دم کھِل اُٹھا۔
"پاکستان۔ پاکستان۔” پھر سینے پر ہاتھ مار کر بولا۔ "آذربائیجان، باکو، پاکستان، برادر برادر۔”
اُس نے ایسے دونوں ہاتھ جوڑ کر انگوٹھے بند کر کے بتایا۔
یعنی پاکستان اور آذربائیجان بھائی بھائی اور بہت قریب ہیں۔ معلوم نہیں کِس مصلحت کے تحت اس نے پہلے اپنے کو تُرک ظاہر کیا۔
"یہ کیا ہوا؟”
میں نے اُس کی ٹانگوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
"آذر بائیجان، آرمینیا، ڈھشوں ڈھشوں۔”
اُس نے دونوں بازوؤں سے بندوق کا سا نشان بنا کر کہا۔
پھر اپنے سینے پر ہاتھ مارکر بولا، "آرمی۔”
اوہ، تو یہ ازلی ابدی زمین کا جھگڑا ہے۔ آذر بائیجان اور آرمینیا زمین کے ایک ٹکڑے پر لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ 1988ء سے جاری ہے۔ اگرچہ یہ تنازعہ تو بیسویں صدی کے شروع سے ہی چلا آ رہا ہے۔ تُرکی اس جنگ میں آذر بائیجان کا ساتھ دے رہا ہے۔
اُس نوجوان کو دیکھ کر میرا دل ایک انجانے غم میں ڈوب گیا۔ زمین کے اِن ٹکڑوں کی خاطر کتنا جوان لہو کب تک اِس دھرتی کو رنگین کرتا رہے گا۔ یہ جوان کٹے ہوئے ناکارہ بازو اور ٹانگیں کس کے نام لکھی جائیں گی۔ ہر انسان کے پیچھے ایک پوری کہانی ہوتی ہے، اس نوجوان کی بھی شاید کوئی محبوبہ ہو۔۔۔ یا نوجوان بیوی۔۔۔ کمسِن بچہ۔۔۔ کو ئی بوڑھی ماں۔۔۔ کوئی کنواری بن بیاہی بہن۔۔۔ ایک انسان کے زخمی اور ناکارہ ہونے یا اپنی جان دے دینے سے کتنی اور زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔
مگر وطن پرستی کے نام پر ہمارے سیاستدان اور جرنیل یہ خون کی ہولی کھیلنے سے نہیں تھکتے۔ یونہی اپنے نوجوانوں کی بَلی چڑھاتے چلے آ رہے ہیں۔ زمین کے ٹکڑوں کی خاطر یہ بے مقصد کبھی نہ ختم ہونے والی لڑائیاں۔۔۔ آذر بائیجان اور آرمینیا کے علاوہ بھی دنیا میں پتہ نہیں کہاں کہاں یہ کھیل جاری ہے۔ فلسطین سے تو ہم واقف ہیں۔ اور کشمیر ہمارے سامنے ہی ہے۔
فیض کا شعر یاد آتا ہے۔
اور کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارضِ وطن
جو تیرے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے
جواب دیں