
تو آئیے آج میں آپ کو بتائوں کہ اس داستان کا آغاز کہاں سے ہوا۔ سفر کی یہ کہانی قریباً پچیس تیس سال پہلے کس طرح شروع ہو ئی۔ نعیمہ کی اور میری دوستی اس سے بھی پرانی ہے۔ ہم تقریباً پڑوسی تھے۔ ہمارے بچوں کی عمریں بھی لگ بھگ ایک برابر تھیں۔ گھروں میں خاندان سمیت آنا جانا تھا۔
نعیمہ لاہور کے انٹر نیشنل ویمن کلب کی ممبر تھی۔ ایک دن اُس کا فون آیا کہ کلب کا ایک گروپ ہندوستان جا رہا ہے۔ اگر تم ساتھ دو تو ہم دونوں بھی جا سکتے ہیں۔ میں نے حامی بھر لی۔ پاسپورٹ ویزہ لگنے چلے گئے۔ چالیس خواتین کا گروپ تھا۔ تقریباً ایک ماہ بعد سب نے مطلوبہ رقم جمع کروانی تھی۔ اب سوچیں تو یقین نہیں ہوتا۔ صرف سترہ ہزار روپے میں واپسی کا ٹکٹ، دو ھفتے کا ہوٹل، کھانا پینا سب شامل۔
بیگم ثریا انور لاہور میں ایک معروف شخصیت ہیں اور اُس وقت کلب کی صدر تھیں۔ اُن کا ہندوستانی سفارت خانے میں کچھ اثر و رسوخ بھی تھا۔ خبر ملی کہ سات شہروں کے ویزے لگ کرآگئے ہیں۔ وہ بھی روز پولیس رپورٹ کی قید سے آزاد۔ جو لوگ ہندوستان نہیں گئے وہ شاید جانتے نہ ہوں کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو پورے ملک کا ویزہ نہیں دیتے جیسا کہ عام دستور ہے۔ اور ہر روز صبح تھانے میں حاضری بھی دینی پڑتی ہے۔ تو یہ تو بہت ہی خاص الخاص ویزہ تھا۔
ہم خوشی خوشی اپنے پیسے لے کر مقررہ وقت پر دفتر پہنچ گئے۔ جب ثریا صاحبہ تشریف لائیں تو چالیس میں سے صرف پانچ خواتین رقم کے ساتھ وہاں موجود تھیں۔ اُن کا تو پارہ چڑھ گیا۔ ظاہر ہے انہوں نے اتنی محنت کی تھی اور چالیس خواتین کے حساب سے ہی یہ رقم پوری پڑتی تھی۔ ٹریول ایجنٹ بھی ایک خاتون تھیں۔ وہ بھی بے حد ناراض ہو ئیں کہ اُن کی اتنی محنت ضائع ہو گئی۔ بار بار وہ کاغذوں کی ایک فائل میز پر پٹختیں کہ انہوں نے اتنے پیغام بھیجے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سفر کی تو بات ہی ختم ہو گئی۔ دونوں خواتین بے حد غصے میں چلی گئیں۔ کلرک نے ہمارے پاسپورٹ اور ایک ایک تصویر ہمارے ہاتھ میں پکڑائی اور ہم منہ لٹکائے واپس آگئے۔
گھر پہنچنے کے بعد میرے ذہن میں ایک بجلی سی چمکی۔ میں نے نعیمہ کو فون کیا۔ "بات سنو، ویزہ اور پاسپورٹ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ رقم بھی موجود ہے۔ گھر والوں کو بھی پتہ ہے کہ ہم جا رہے ںیں، تو روک کیا ہے۔ ہم دونوں تو جا ہی سکتے ہیں نا…؟”
کچھ بحث اور پریشانی کے اظہار کے بعد نعیمہ راضی ہو گئی۔ مگر فیصلہ یہ ہوا کہ گھر میں کسی کو یہ خبر نہ ہو کہ گروپ نہیں جا رہا۔ یہ نہ ہو کہ منع کر دیں۔ ایسا بھی کیا ہے۔ ہندوستان ہی توہے۔ ایک زبان، ایک سا رہن سہن۔ کیا مشکل پیش آسکتی ہے۔ میں نے نعیمہ کو تسلی دی۔
اُسی ٹریول ایجنٹ سے ٹکٹ خرید کر ہم ایئر پورٹ پہنچ گئے۔ لاہو رکا پرانا ایئر پورٹ شاید کچھ لوگوں کو ابھی بھی یاد ہو گا۔ نہ دہشت گردی کا لفظ کسی نے سنا تھا نہ سیکورٹی کی ایسی بندش تھی۔ سامان جمع کروا کر جب ہم امیگریشن تک پہنچے تو اُن صاحب نے پاسپورٹ کھول کر پوچھا۔
” آپ لوگوں کا فارم کہاں ہے؟ "
” کیسا فارم؟ ” ہم نے حیران ہو کر سوال کیا۔
” ویزہ تو پاسپورٹ پر لگا ہوا ہے۔”
” بی بی ہندوستان جانے والوں کے لیے ایک فارم ساتھ ہو تا ہے۔ سفید رنگ کا۔ یہ تصویر دیکھ رہی ہیں، اس پر آدھی مہر ہے۔ باقی آدھی مہر اس فارم پر ہو تی ہے۔ میں اگر یہاں سے آپ کو جانے بھی دوں تو ہندوستانی امیگریشن آپ کو ایئر پورٹ سے ہی واپس کردے گی۔ "
اب ہمارے تو ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ خدا کی قدرت کہ فلائٹ میں کچھ تاخیر ہو گئی۔ آگے جو کچھ ہوا وہ تو کسی معجزے سے کم نہیں۔ سامان جا چکا تھا۔ مجھے تو عملے نے وہیں بٹھا لیا۔ کیسے نعیمہ اُس دفتر پہنچی اور کس طرح دفتر کے بند ہوتے ہوتے ردی کی ٹرکری میں سے اُس نے وہ فارم ڈھونڈے۔ میں سامان والی بیلٹ پر ہی بیٹھ گئی اور دھڑکتے دل کے ساتھ گھڑیاں گنتی رہی۔ ایئر پورٹ کا برآمدہ اور سٹرک سامنے ہی نظر آ رہی تھی۔ آج بھی نعیمہ کا خوشی سے چمکتا وہ چہرہ میری نگاہوں کے سامنے ہے جب اُس نے دُور سے ہی وہ سفید فارم لہرایا۔
اب آگے کی سنیئے۔ ہم لائونج میں پہنچ گئے۔ فلائٹ میں تاخیر پر تاخیر ہوتی گئی۔ پی آئی اے کے بھلے زمانے تھے۔ ہر کچھ دیر بعد چائے، کیک اور چکن پیٹیز سے مسافروں کی تواضع ہوتی رہی۔ دوپہر تین بجے جانے والی فلائٹ رات کے دس بجے روانہ ہو ئی۔ موبائل فون تو تھے نہیں، ہم نے ڈر کے مارے گھر فون ہی نہ کیا کہ کہیں واپس نہ بلا لیں۔ اُس زمانے میں لوگ ایک دوسرے سے پل پل کی خبر کی توقع بھی نہیں رکھتے تھے۔
نعیمہ کا خاندان دہلی سے ہے تو اس کے کچھ سسرالی عزیز اب بھی وہاں موجود ہیں۔ایک پھوپھی کی بیٹی صاحبہ نے ایک دیگچوں کا سیٹ اپنی اماں کے لیے تحفے کے طور پر ہمارے ساتھ کر دیا، جو ایک گتے کے ڈبے میں بند تھا۔
فلائٹ تو کُل پون گھنٹے کی تھی۔ دہلی کا پرانا اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایئر پورٹ۔ پہلے تو محکمہ صحت کے ایک صاحب نے آنکھیں دکھائیں کہ آپ کا میڈیکل کارڈ کہاں ہے۔ پتہ چلا کہ کارڈ تو کوئی ضروری نہیں ہوتا وہ بس تھوڑی سی رشوت کے چکر میں تھے۔ پھر امیگریشن والے نے سوال کیے کہ یہ سات شہروں کا بغیر پولیس رپورٹ والا ویزہ ملا کیسے۔ وہاں سے چھُوٹے تو کسٹم والے صاحب نے سونے کی چوڑیاں گننا شروع کر دیں۔ اب کا پتہ نہیں مگر تب ہندوستان میں سونا لانے لیجانے پر پابندی تھی۔ لکھا جاتا تھا تاکہ واپسی پر پورا کیا جائے۔
حواس باختہ آخر ہال میں نکلے تو تقریباً سب مسافر جا چکے تھے۔ دیگچوں کا ڈبہ بیلٹ پر گھومتے گھومتے اچانک کُھل گیا۔ اب بھی چشمِ تصور سے وہ منظر یاد کرتی ہوں تو ہنسی آ جاتی ہے۔ میں نے اور نعیمہ نے بھاگ بھا گ کر لڑھکتے ہوئے دیگچے اور ان کے ڈھکن اکٹھے کیے۔
اب ذرا تصور کریں، رات بارہ بجے کا وقت، ہماری یہ حالت، دشمن ملک، نہ کوئی لینے والا نہ کوئی رہنے کا ٹھکانہ۔ سوچا تو یہی تھا کہ دن کی روشنی میں وہاں پہنچیں گے۔ دیگچے لینے کوئی آیا ہو گا تو ان سے کچھ مدد حاصل کر لیں گے۔ مگر بارہ بجے رات کون آتا۔
باہر نکلے تو ایک سردار جی اپنی ٹیکسی میں بیٹھے اُونگھ رہے تھے۔
” کتھے جانا اے جی۔” انہوں نے جمائی لے کر پوچھا
” یہاں سندر نگر میں ایک مہارانی گیسٹ ہاؤس ہے۔ اُس کا پتہ جانتے ہیں آپ؟ ” نعیمہ نے بہت خود اعتمادی سے ذرا بلند آواز میں کہا۔
” آہو جی۔” اور ٹیکسی چل پڑی۔
نعیمہ کے دماغ نے وقت پر کام کیا۔ اُس کے ذہن میں آیا کہ چند ماہ پہلے اُس کے بھائی بھابھی ہندوستان آئے تھے اور انہوں نے ذکر کیا تھا کہ وہ یہاں ٹھہرے تھے۔ رات کے دو بجے جب ہم مہارانی گیسٹ ہائوس کے آرام دہ کمرے میں سامان رکھ کر بیٹھے تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے اب تک کسی خواب میں تھے۔
پھر اس کے بعد کیا ہوا یہ تو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ہندوستان کے سفر کی کہانی پھر کبھی سہی۔ ابھی کے لئے اتنا ہی کہ لال قلعہ دیکھا، جامع مسجد دیکھی، چاندنی چوک، ہلدی رام کی دکان کی چاٹ اور سون پاپڑی، جامن والی گلی میں نعیمہ کا آبائی گھر، گلی قاسم جان جہاں غالب رہتے تھے, آگرہ اور تاج محل۔ جتنا سنا تھا اس سے زیادہ حسین۔ تاج محل میں ایک خاص کشش ہے۔ پھر جے پور کا گلابی شہر۔
کہتے ہیں کسی کو جاننا ہو تو اس کے ساتھ چند دن کا سفر کرلیں۔ یا تو آپ بدترین دشمن بن کر واپس آئیں گے یا پھر بہترین دوست۔ تو نعیمہ کی اور میری دوستی، اور سفر کا ساتھ، تب سے اب تک قائم ہے۔الحمد للہ۔
جواب دیں